سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور اہلخانہ و ڈاکٹروں سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی، جس پر سپریم کورٹ نے انہیں آج ہی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت کو فراہم کیا گیا مواد صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔
مزید پڑھیں:بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی جیل رولز کے تحت 84 ملاقاتیں ہوچکی ہیں، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے اسپتال میں غیر ضروری مجمع نہ لگنے کی یقین دہانی بھی طلب کی۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی ضمانت کون دے گا۔ سلمان اکرم راجا نے یقین دہانی کرائی کہ سیاسی جماعت میڈیکل رپورٹس کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرے گی، میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور بانی پی ٹی آئی کی فیملی کا معاملہ ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ اسپتال کے باہر مجمع نہ لگنے کی کیا ضمانت ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں دیگر مریض بھی ہوتے ہیں، کسی کو ڈسٹرب نہیں ہونا چاہیے۔ عذیر بھنڈاری نے بتایا کہ اڈیالہ جیل کے باہر ایک کلو میٹر دور پولیس چوکی موجود ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو نجی اسپتال ہی منتقل کیوں کیا جا رہا ہے؟ عذیر بھنڈاری نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو اکثر پمز لے جایا جاتا رہا ہے۔ عدالت نے نجی اسپتال کے اخراجات سے متعلق بھی سوال کیا، جس پر وکیل نے کہا کہ اخراجات ہم ادا کریں گے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن سے ملاقات کے معاملے پر بھی استفسار کیا کہ کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے؟ عذیر بھنڈاری نے کہا کہ عظمیٰ خان ڈاکٹر ہیں، اس لیے ان کی ملاقات کرائی جائے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عظمیٰ خان کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری نہیں ہوا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے استفسار کیا کہ یہ بات صبح کیوں نہیں کی گئی؟ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ آپ اسلام آباد کے سینئر ترین لاء افسر ہیں، ایسے نہ کریں۔
عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی پی ٹی آئی کے ہمراہ ہوں گے۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے عدالت نے کارڈیالوجسٹ، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو بورڈ میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک دن ملاقات کرانے کا بھی حکم دے دیا۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں کی گزشتہ 3 سال کی تمام تفصیلات اور بچوں سے ٹیلی فونک رابطے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام قانون کی خلاف ورزی کرنا نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ گزشتہ 3 سال میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے 48 ملاقاتیں کرائی گئی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی۔
وکیل عذیر بھنڈاری نے ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ملاقات کی اجازت دینے اور بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل میں مکمل طبی معائنہ کرانے کی استدعا کی۔ عدالت میں ڈاکٹر عاصم یوسف کے ماہرِ معدہ ہونے کا بھی ذکر ہوا، جس پر وکیل نے ڈاکٹر فیصل سلطان سے ملاقات کرانے کی تجویز دی۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ایک بات طے کرلی جائے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں ہوگی۔ عدالت نے ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک سے متعلق ضمانت بھی طلب کی۔ وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ کی ہدایات کے مطابق وہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر، فل کورٹ ریفرنس میں خدمات کو خراجِ تحسین
سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی ایک شخص کی جانب سے میڈیا ٹاک کرکے یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کا ذمہ دار باقی افراد کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس پر جسٹس شاہد وحید نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی تو سلمان اکرم راجہ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے گزشتہ تین سال میں ہونے والی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ بھی طلب کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود ملاقات نہ کرانے کی وجہ بتائی جائے۔
کیس کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔














