’اے آئی تصاویر نے دھوکا دیا؟ شادی کے بعد بالمشافہ دیکھ کر سندھ کے سابق وزیر کی عدالت میں دہائی، خاتون کا انکار

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق صوبائی وزیر غلام رسول انڑ کی سابق اہلیہ نے اس الزام کو رد کردیا ہے کہ انہوں نے شادی سے قبل اپنی جعلی تصویر بھیجی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نوسرباز آپ کی آواز چرا سکتے ہیں لیکن ایک راز نہیں جان سکتے، جانیے اے آئی فراڈ سے بچنے کا مؤثر طریقہ

 سابق صوبائی وزیر غلام رسول انڑ نے اپنی سابق اہلیہ رضیہ ارباب کے خلاف انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کرنے کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سابق اہلیہ نے شادی سے قبل اپنی اے آئی سے تبدیل شدہ تصاویر انہیں بھیجی تھیں تاہم رضیہ ارباب نے عدالت کے حضور اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔

پیر کو رضیہ ارباب نے اپنے وکیل کے ذریعے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) محمد اسلم شیخ کی عدالت میں درخواست پر تحریری اعتراضات جمع کرائے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے 78 سالہ سابق شوہر نے ان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں اور ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست ذاتی رنجش کی بنیاد پر دائر کی گئی ہے۔

رضیہ ارباب کے مطابق شادی سے قبل انہیں ان کے سابق شوہر کے ایک دوست کے گھر مدعو کیا گیا تھا جہاں ان کی تصاویر بنائی گئی تھیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق شوہر نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں شکایت درج کرا کے انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

سابق اہلیہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 30 جولائی کو حیدرآباد کی ایک مقامی عدالت میں اپنے سابق شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جس میں ایک کروڑ روپے اور نکاح نامے میں درج 50 ایکڑ زرعی زمین کی واپسی کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ روپے ماہانہ نان نفقہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ عدت میں ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکی تھیں۔

رضیہ ارباب کے اعتراضات سننے کے بعد درخواست گزار غلام رسول انڑ کے وکیل ایڈووکیٹ عامر نواز وڑائچ نے مزید مہلت طلب کی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

عدالت نے کیس کی سماعت 29 اگست تک ملتوی کردی۔

’شادی کے بعد بالمشافہ دیکھنے پر غلام رسول انڑ کی دہائی

قبل ازیں سابق رکن سندھ اسمبلی غلام رسول انڑ نے رضیہ ارباب کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون نے شادی سے قبل اپنی اصل شناخت اور حلیہ چھپانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر استعمال کیں جبکہ شادی کے بعد مبینہ طور پر انہیں بلیک میل اور دھمکیاں بھی دیں۔

مزید پڑھیے: اے آئی سے آواز اور چہرے کی نقل، دھوکا دہی کے خطرات میں تشویشناک اضافہ

غلام رسول انڑ۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج (ساؤتھ) نے سابق رکن اسمبلی کی درخواست پر شکایات سیل کے ایس پی اور تھانہ ڈیفنس کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی۔

درخواست کی سماعت کے دوران سابق رکن اسمبلی کے وکیل امیر نواز وڑائچ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی خاتون سے سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت ہوئی اور دونوں نے شادی کرلی تاہم شادی سے قبل سابق رکن اسمبلی نے خاتون کا اصل چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

وکیل کے مطابق سابق رکن اسمبلی نے 23 فروری 2026 کو ویڈیو کال کے ذریعے خاتون سے شادی کی۔ جب بھی وہ خاتون سے اپنا چہرہ دکھانے کا کہتے تو وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھیج دیتی تھیں۔ وکیل نے بتایا کہ شادی کے روز بھی خاتون نے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔

درخواست کے مطابق شادی کے بعد جب سابق رکن اسمبلی نے خاتون کو پہلی مرتبہ بالمشافہ دیکھا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ خاتون کا حلیہ ان تصاویر سے بالکل مختلف تھا جو انہیں پہلے بھیجی گئی تھیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اصل حقیقت سامنے آنے کے بعد ان کے مؤکل نے خاتون سے فاصلہ اختیار کرلیا تاہم اس وقت تک نکاح برقرار تھا۔

درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعد ازاں خاتون نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جعلی تصاویر اور ایسی پوسٹس شیئر کیں جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ سابق رکن اسمبلی انتقال کرچکے ہیں۔

وکیل کے مطابق سابق رکن اسمبلی نے بالآخر 2 اگست کو خاتون کو طلاق دے دی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے پر سابق رکن اسمبلی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں بھی خاتون کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔

مزید پڑھیں: اصلی اور اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز میں فرق کس طرح کیا جائے، جانیے اہم طریقے

درخواست کے مطابق طلاق کے بعد خاتون نے سابق رکن اسمبلی سے مبینہ طور پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کا مطالبہ کیا اور انہیں بلیک میل کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp