ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے باعث برطانیہ میں لوگوں کی آواز اور چہرے کی نقل ان کی اجازت کے بغیر تیار کی جا سکتی ہے جبکہ موجودہ قوانین اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کافی مضبوط نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے
ماہرین کے مطابق جدید اے آئی ٹیکنالوجی اب چند سیکنڈ کی آڈیو یا ویڈیو کلپ کی مدد سے کسی بھی شخص کی انتہائی حقیقی ڈیجیٹل نقل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے شناخت کے غلط استعمال، دھوکا دہی اور ذاتی کنٹرول کے خاتمے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
میڈیا قانون کی ماہر ڈاکٹر میتھلڈ پاوس کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے موجودہ قوانین اب مقصد کے لیے موزوں نہیں رہے کیونکہ یہ اس دور میں بنائے گئے تھے جب اس نوعیت کی ٹیکنالوجی موجود ہی نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کسی حد تک تحفظ فراہم کرتے ہیں لیکن وہ کسی شخص کی آواز، چہرے یا مجموعی شناخت کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بناتے۔ ان کے مطابق فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک میں ’پرسنالٹی رائٹس‘ کے تحت مؤثر قانونی تحفظ موجود ہے۔
’میری آواز کس نے اور کیسے استعمال کی، مجھے کچھ معلوم نہیں‘
برطانیہ کے شہر برسٹل سے تعلق رکھنے والی وائس اوور آرٹسٹ فے ڈکر نے انکشاف کیا کہ ان کی آواز کو ان کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کی مدد سے نقل کر کے فروخت کیا گیا جس پر وہ حیرت اور صدمے کا شکار ہو گئیں۔
فے ڈکر کے مطابق ان کی آواز امریکی اے آئی کمپنی ’فِش آڈیو‘ کے پلیٹ فارم پر 900 سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میری آواز کس نے استعمال کی، کس مقصد کے لیے استعمال کی اور میری آواز میں کیا کچھ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیے: علاقائی لہجوں کی نقل کرنے والا اے آئی وائس ٹول متعارف، زبانیں خطرے میں کیوں؟
فش آڈیو نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ عوامی شخصیات اور قابل شناخت آوازوں کے تحفظ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور متنازع مواد کو ہٹا دیا گیا ہے۔
قوانین ٹیکنالوجی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے
ڈاکٹر پاوس کے مطابق برطانیہ اس وقت کاپی رائٹ، ڈیٹا پروٹیکشن اور ٹریڈ مارک قوانین کے ’پیوند شدہ نظام‘ پر انحصار کر رہا ہے جو کسی شخص کی ظاہری شناخت کے بعض پہلوؤں کو تو تحفظ دیتے ہیں لیکن انہیں اے آئی کلوننگ کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ قوانین فلموں، آڈیو ریکارڈنگز اور ذاتی ڈیٹا کے مخصوص استعمال کو تحفظ دیتے ہیں لیکن کسی شخص کی مکمل ذاتی شناخت اور جسمانی مشابہت کو نہیں۔
وائس آرٹسٹس کی یونین بھی متحرک
برطانوی فنکاروں کی نمائندہ تنظیم ’ایکویٹی‘ کا کہنا ہے کہ اے آئی کلوننگ اب ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
یونین کی نمائندہ شینن سیلنگ نے بتایا کہ اب تک 20 سے زائد اراکین کی جانب سے آواز کے غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی دعوے دائر کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اب میری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا ایک بڑا حصہ بن چکا ہے۔
حکومت پر ’بگ ٹیک‘ کے تحفظ کا الزام
ڈیجیٹل قوانین کی معروف مہم جو اور برطانوی ایوانِ بالا کی رکن بیرونس بیبن کڈرن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تخلیقی شعبے کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے برطانیہ کے کاپی رائٹ قوانین کو مضبوط بنانے اور کسی شخص کی شناخت و مشابہت کو دانشورانہ ملکیت کے برابر قانونی حیثیت دینے میں تاخیر کی ہے، جو تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت برطانوی شہریوں کے بجائے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔
یورپی ممالک میں بہتر تحفظ
ڈاکٹر پاوس کے مطابق کئی یورپی ممالک نے مصنوعی ذہانت کے آنے سے بہت پہلے ہی ’پرسنالٹی رائٹس‘ کو تسلیم کیا ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ فرانس میں سنہ 1858 سے کسی شخص کی تصویر، آواز، نام، نجی زندگی اور شہرت کو اس کی ذاتی شناخت کا حصہ تصور کیا جاتا ہے اور انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن بعض معاملات میں مددگار ثابت ہو رہا ہے لیکن یہ بھی آواز یا چہرے کی اے آئی کلوننگ کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا تھا۔
برطانوی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تسلیم کرتی ہے کہ ڈیجیٹل نقل کی ٹیکنالوجی کئی مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے تاہم بغیر اجازت کسی شخص کی شناخت کی نقل نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ہم جلد ایک مشاورتی عمل شروع کریں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ لوگوں کو ممکنہ نقصان سے کیسے بچایا جائے، جبکہ قانونی اور مفید جدت طرازی کو بھی برقرار رکھا جائے۔
مزید پڑھیں: اے آئی نے ویب سائٹس کا مستقبل تاریک کردیا، حل کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر دنیا بھر میں قوانین کو فوری طور پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر عام افراد، فنکاروں اور پیشہ ور افراد کی شناخت، آواز اور چہرے کے تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔














