وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں، موجودہ حکومت اور ریاستی نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ہوتے ہوئے کسی قسم کی سازش کی گنجائش نہیں، دونوں واضح سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے سامنے پاکستان، پاکستانی عوام کے مسائل اور ملکی مفادات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی، سیاسی عمل سے جوڑنا درست نہیں : رانا ثنااللہ
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اس فیصلے پر ’جلدی مٹھائی کھا لی ہے‘، کیونکہ یہ عدالتی فیصلہ ہے اور اسے سیاسی تبدیلی یا کسی سازش سے جوڑنا درست نہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف خود عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دے دیتی، ان کے مطالبے پر طبی رپورٹس کی تفصیلات فراہم کردیتی اور خاندان کے مطالبے کے مطابق عمران خان کا مناسب علاج کرادیتی تو آج سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ نہ آتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کو اسلام آباد میں پہلے بھی تین سے چار مرتبہ اسپتال لایا گیا، انہیں مکمل سیکیورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ ملاقاتوں کے معاملے پر بھی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا اسپتال منتقلی کا فیصلہ: اب 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، تجزیہ کار
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر تحریک انصاف نے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف پہلے پارلیمنٹ، آئینی ترامیم اور عدالتی نظام کو تسلیم نہ کرنے کی بات کرتی رہی، لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اچانک عدلیہ کو ’روشنی کی کرن‘ اور انصاف کی علامت قرار دیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور حکومت سمجھتی ہے کہ اس میں کئی قانونی نکات پر مزید غور کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی و اہلخانہ کی ملاقات، بیٹوں سے 2 بار ٹیلیفون پر بات کی اجازت : سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
طلال چوہدری نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کو مستقبل میں بنی گالا منتقل کیے جانے کے امکان سے جوڑنے کو بھی مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک موجودہ قیادت اور نظام موجود ہے، کوئی سازش نہیں ہوگی۔ پاکستان بدل چکا ہے، ادارے بھی تبدیل ہوئے ہیں اور اب توجہ ملکی معیشت، پاکستان اور عوام کے مسائل حل کرنے پر مرکوز ہے۔
طلال چوہدری نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی پارٹی کا مؤقف تبدیل ہوگیا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور نظام اچھا دکھائی دینے لگا، جو ان کے بقول تحریک انصاف کے ’دوہرے معیار‘ کی عکاسی کرتا ہے۔














