گرمیوں میں دریائے زرد کے کنارے سیاحت مقبول، نئی شاہراہوں نے سفر آسان بنا دیا

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین میں گرمیوں کی تعطیلات کے دوران دریائے زرد کے کنارے سیاحت میں نمایاں دلچسپی دیکھی جا رہی ہے اور نئی سیاحتی شاہراہوں کی تکمیل کے بعد اس خطے کے قدرتی اور ثقافتی مقامات تک رسائی مزید آسان ہوگئی ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق شانشی اور شانشی صوبوں کے درمیان دریائے زرد کے کنارے واقع قدرتی مناظر، آبشاروں اور تاریخی مقامات کی سیر کے لیے بڑی تعداد میں سیاح پہنچ رہے ہیں۔ خاص طور پر دریائے زرد کی مشہور ہُوکاؤ آبشار اور اس کے اطراف کا علاقہ موسم گرما میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

شانشی میں دریائے زرد ’نمبر ایک‘ سیاحتی شاہراہ اور شانشی میں یان ہوانگ ہائی وے کی تکمیل نے دریا کے ساتھ طویل فاصلے پر سفر کو آسان بنایا ہے۔ یہ شاہراہیں مختلف قدرتی مقامات، دیہی علاقوں اور ثقافتی ورثے کو آپس میں ملاتی ہیں، جس سے سیاح ایک ہی سفر میں متعدد مقامات دیکھ سکتے ہیں۔

شانشی حکومت کے مطابق صوبے میں 3 بڑی سیاحتی شاہراہوں، یعنی دریائے زرد، عظیم دیوار اور تائی ہانگ نمبر ایک سیاحتی شاہراہوں کا مجموعی نیٹ ورک تقریباً 13 ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ یہ راستے سیکڑوں تاریخی و ثقافتی مقامات، سیاحتی مراکز اور دیہات کو باہم جوڑتے ہیں اور سڑکوں کو محض سفری ذرائع کے بجائے سیاحتی تجربے کا حصہ بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہالی ووڈ کی سلطنت کیسے زندہ ہو رہی ہے؟

دریائے زرد اور شانشی صوبے کی سرحد پر واقع ہُوکاؤ آبشار اس سیاحتی راستے کی نمایاں کشش ہے۔ اسے چین کی قومی سطح کی اہم سیاحتی منزل اور 5A درجے کا سیاحتی مقام قرار دیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں بارشوں کے موسم کے دوران آبشار میں پانی کے بہاؤ میں اضافے نے بھی اس کی کشش بڑھائی ہے۔

جون میں شانشی اور شانشی نے ہُوکاؤ آبشار کے دونوں اطراف کی سیر کے لیے مشترکہ ٹکٹ بھی متعارف کرایا، جس سے سیاح ایک ہی سفر میں دونوں صوبوں کی جانب سے آبشار کے مناظر دیکھ سکتے ہیں۔

چینی حکام کے مطابق دریائے زرد کے ساتھ سیاحتی شاہراہوں کی توسیع کا مقصد قدرتی مناظر کو تاریخی اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جوڑتے ہوئے موسم گرما کی سیاحت کو فروغ دینا اور مقامی معیشت میں سیاحتی سرگرمیوں کا حصہ بڑھانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp