کابل اسکول دھماکا: داعش کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مغربی کابل کے ایک اسکول میں ہونے والے دھماکے میں داعش یا اس سے وابستہ گروپ ملوث ہوسکتے ہیں، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

مزید پڑھیں:تاجکستان میں گرفتاری اور کابل دھماکے، افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن رہا ہے؟

افغان طالبان کے ترجمان نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز حملے کے ذمہ داروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ اسکول کے اندر دستی بم پھینکا گیا، جس کے نتیجے میں قریباً 25 طلبہ زخمی ہوئے۔ طالبان ترجمان نے زخمیوں کی حالت کو معمولی قرار دیا۔

دھماکا پیر کی شام کابل کے مغربی علاقے دشتِ برچی میں مہدیہ ٹاؤن شپ کے علاقے میں قائم شامِ ہدایت نجی اسکول کے قریب ہوا۔ اب تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

دوسری جانب اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد قریباً 50 ہے، جن میں زیادہ تر اسکول کے بچے شامل ہیں۔ مغربی کابل کے ایک اسپتال سے حاصل فہرست کے مطابق کم از کم 19 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں 14 بچیاں شامل ہیں اور ان کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

دشتِ برچی کابل کا ایک گنجان آباد ہزارہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ برسوں کے دوران اسکولوں اور تعلیمی مراکز کو متعدد مہلک بم حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان کی سرزمین پر ہزاروں دہشتگرد موجود، شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جانے لگا

افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے حملے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے واقعے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp