افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران عام شہریوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ لیکن دوسری جانب کابل کی جانب سے شہری آبادی کو بطور ڈھال استعمال کرنے کے حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔
اب پاکستان کی جانب سے جوابی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی یہ پرانی حکمتِ عملی ہے کہ وہ شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان میں ماضی کی لڑائی کے دوران بھی طالبان شہری علاقوں سے حملے کرتے، وہیں رہتے اور چھپتے تھے، جس کے نتیجے میں جوابی کارروائیوں میں شہری متاثر ہوتے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی پاکستان کے اندر یہی طریقہ کار اختیار کیے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کر رہے ہیں، خواجہ محمد آصف
بیان کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد بھی طالبان نے یہی طرزِ عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے افغانستان کو مختلف اقسام کے دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے، اور جب پاکستان ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے تو طالبان معصوم شہریوں کی اموات کا بیانیہ اپناتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ گزشتہ 30 برسوں میں طالبان کے طرزِ عمل سے ان کی شہریوں کے لیے حقیقی فکر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہی عناصر جو مساجد، شادیوں، جنازوں، بازاروں اور مصروف شاہراہوں پر خودکش حملے کرتے رہے اور اسکولوں میں بچوں کو نشانہ بناتے رہے، آج شہری جانوں کے تحفظ کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو کہ کھلی منافقت اور پروپیگنڈا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ طالبان نے 4 کروڑ افغان عوام کو نظر انداز کرکے قریباً 20 ہزار غیر ملکی دہشتگردوں کو ترجیح دی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے ساتھ تجارت متاثر ہوئی، غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی اور سرحدی بندشوں کے باوجود طالبان حکومت دہشت گردوں کو پناہ دینے سے دستبردار نہیں ہو رہی، جس کا خمیازہ افغان عوام غربت کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
دوحہ معاہدہ 2020 کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا کہ آخر کیوں افغانستان 20 سے زیادہ دہشتگرد تنظیموں اور 20 سے 23 ہزار جنگجوؤں کا مرکز بن چکا ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان ٹی ٹی پی، داعش خراسان، ای ٹی آئی ایم اور القاعدہ کے لیے عملی پناہ گاہ بن چکا ہے، جس میں طالبان کی سہولت کاری شامل ہے۔
مزید کہا گیا کہ 2021 سے اب تک 8 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جبکہ صرف 2025 میں 600 سے زیادہ حملے کیے گئے۔
بیان کے مطابق یہی اصل شہری متاثرین ہیں، نہ کہ وہ افراد جنہیں طالبان ہلاک شدہ دہشتگردوں کو شہری ظاہر کرکے پیش کرتے ہیں۔
2 اپریل 2026 کو شمالی وزیرستان میں 8 ٹی ٹی پی دہشتگردوں کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان میں سے 2 افغان شہری تھے جن کے نام اور پتے بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں سے قبل سفارتی ذرائع استعمال کیے، تاہم ناکامی کے بعد محدود ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔
اس میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان اور ان کی حمایت یافتہ ٹی ٹی پی شہری علاقوں سے کارروائیاں کرتے ہوئے جان بوجھ کر انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں تاکہ حملوں سے بچ سکیں اور خطرہ شہریوں پر منتقل ہو۔
جاری کردہ ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ دہشتگرد عناصر کو اکثر گھروں سے فائرنگ کرتے، بچوں کے پیچھے چھپتے اور مساجد میں رہائش، اجلاس اور دھماکا خیز مواد تیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستانی افواج مصدقہ معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان تنصیبات کو نشانہ بناتی ہیں جو ٹی ٹی پی کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔ طالبان کی جانب سے جن افراد کو شہری ظاہر کیا جاتا ہے، ان میں سے اکثر دراصل دہشتگرد یا ان کے اہلِ خانہ ہوتے ہیں جنہیں انسانی ڈھال کے طور پر رکھا جاتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ طالبان نے اپنے اثاثے دانستہ طور پر شہری علاقوں میں رکھنا شروع کردیے ہیں تاکہ پاکستانی کارروائیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان کی پروپیگنڈا مہم جاری، شہری علاقوں میں دہشتگردوں کو پناہ دینے لگے
بیان میں مزید کہا گیا کہ طالبان شہری نقصانات کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کرتے ہوئے خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں، جبکہ افغانستان میں شہریوں کی مشکلات دراصل دہشتگردوں کو پناہ دینے کے فیصلے کا نتیجہ ہیں۔
بیان کے مطابق طالبان دہشتگردوں کو تحفظ دیتے، شہریوں کا استحصال کرتے اور خطے میں عدم استحکام پھیلاتے ہیں، جبکہ 4 کروڑ افغان عوام اس کی قیمت ادا کررہے ہیں۔














