پائلٹس اور فضائی میزبانوں کو  کینسر کی بعض مہلک اقسام سے خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے، ہارورڈ تحقیق

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں 13 ملین سے زائد امریکی ڈیتھ سرٹیفکیٹس کے تجزیے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ پائلٹس اور فضائی میزبانوں میں بعض تابکاری سے منسلک کینسرز سے موت کی شرح دیگر پیشوں کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں 2020 سے 2024 کے دوران امریکا میں جاری کیے گئے تقریباً 13 ملین ڈیتھ سرٹیفکیٹس کا جائزہ لیا گیا، جن میں تقریباً 14 ہزار پائلٹس اور 7 ہزار فضائی میزبان شامل تھے۔ محققین نے چھاتی کے سرطان، ملٹی پل مائیلوما، لیوکیمیا، لمفوما، مرکزی اعصابی نظام کے سرطان، تھائرائیڈ کینسر، پروسٹیٹ کینسر، میلانوما اور دیگر جلدی سرطانوں سمیت مختلف اقسام کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے مطابق پائلٹس اور فضائی میزبانوں میں چھاتی کے سرطان، مرکزی اعصابی نظام کے سرطان، پروسٹیٹ کینسر اور میلانوما سے منسلک اموات کی شرح اعدادوشمار کے اعتبار سے نمایاں طور پر زیادہ تھی، جبکہ پائلٹس میں لیوکیمیا سے موت کا امکان بھی زیادہ پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات سے کینسر کے خطرات کم ہونے کا امکان، تحقیق

فضائی میزبانوں کی مجموعی اموات میں 6.9 فیصد اور پائلٹس کی اموات میں 6.7 فیصد تابکاری سے منسلک سرطانوں سے ہوئیں، جو 500 سے زائد پیشوں میں سب سے زیادہ شرح تھی۔

تحقیق کے مصنف اور ہارورڈ کے ڈاکٹر انوپم بی جینا کے مطابق طیارے کی بلندی پر کام کرنے والے افراد سورج سے آنے والی آئنائزنگ یا ’کائناتی تابکاری‘ کی زیادہ مقدار کا سامنا کرتے ہیں۔

فضائی صنعت سے وابستہ کارکنوں کو سالانہ تقریباً 3 سے 6 ملی سیورٹ کائناتی تابکاری مل سکتی ہے، جبکہ سال میں 10 مرتبہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنے جانے والے مسافر کو تقریباً 0.4 ملی سیورٹ تابکاری کا سامنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی مٹھاس اور فلیورڈ مشروبات ذیابیطس اور کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں، قومی اسمبلی کمیٹی کو بریفنگ

یہ تحقیق 17 اگست کو JAMA Internal Medicine میں شائع ہوئی۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ مشاہداتی مطالعہ ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کائناتی تابکاری ہی کینسر کا براہِ راست سبب ہے۔ انفرادی کارکنوں کو ملنے والی تابکاری کی مقدار سے متعلق معلومات بھی دستیاب نہیں تھیں، جبکہ دیگر پیشہ ورانہ یا طرزِ زندگی کے عوامل بھی نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج عام مسافروں کے مقابلے میں پائلٹس اور فضائی میزبانوں کے لیے زیادہ اہم ہیں، کیونکہ ان کا فضائی سفر کئی برسوں پر محیط ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp