چین کا سولر انقلاب، پاکستان کے خریداروں کے لیے نئی آزمائش

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی جانب سے سولر پینلز اور انورٹرز کے لیے نئے لازمی معیار کے نفاذ نے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی سولر مارکیٹ میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب صرف کم قیمت اور زیادہ واٹ والے سولر پینل خریدنا کافی نہیں ہوگا بلکہ کارکردگی، معیار، پائیداری اور مستقبل میں اسپیئر پارٹس کی دستیابی بھی اہمیت اختیار کر جائے گی۔

چین نے 27 جون 2026 کو GB 47834-2026 کے نام سے نیا لازمی قومی معیار جاری کیا ہے، جو کرسٹلائن سلیکان سولر ماڈیولز اور انورٹرز کے لیے کم از کم توانائی کی کارکردگی اور مختلف کارکردگی درجات مقرر کرتا ہے۔ یہ معیار یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عام طور پر دستیاب 585 واٹ کے متعدد سولر پینلز کی کارکردگی 21 سے 22.6 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ چین کے نئے معیار کے تحت کم از کم کارکردگی 23.2 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام 585 واٹ پینلز مارکیٹ سے باہر ہوجائیں گے، بلکہ وہی ماڈلز نئے معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں متاثر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیسلا کا ٹیکساس میں 10 ارب ڈالر کی سولر فیکٹری لگانے کا منصوبہ

چین کے نئے ضوابط کے باعث کم کارکردگی والے پینلز کی تیاری بتدریج کم یا ختم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم پرانا اسٹاک فوری طور پر مارکیٹ سے غائب نہیں ہوگا اور ممکن ہے کہ ایسے پینلز پاکستان سمیت دیگر ممالک میں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب رہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں سستے سولر پینلز صارفین کو فوری طور پر پرکشش دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق سولر نظام طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اس لیے خریداروں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پینل کتنا پرانا ہے، کیا اس کی تیاری اب بھی جاری ہے، وارنٹی قابلِ اعتماد ہے یا نہیں اور مستقبل میں اسی ماڈل کے متبادل پینلز اور دیگر پرزے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔

یہ مسئلہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں خاص طور پر اہم ہے، جہاں کسان، چھوٹے کاروبار اور گھریلو صارفین بجلی، آبپاشی اور کاروباری ضروریات کے لیے سولر نظام پر انحصار کر رہے ہیں۔ ابتدائی خریداری میں ہونے والی معمولی بچت بعد میں وارنٹی، مرمت یا متبادل پینل کی عدم دستیابی کی صورت میں مہنگی پڑ سکتی ہے۔

چین کے نئے معیار سے سولر صنعت میں ایک بڑی تبدیلی کا بھی اشارہ ملتا ہے، جہاں زیادہ مؤثر اور بہتر معیار کی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان میں بھی سولر مارکیٹ اب صرف پینلز کی تنصیب تک محدود نہیں رہی بلکہ گھریلو اور کاروباری صارفین بیٹری اسٹوریج کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سولر مارکیٹ کے اگلے مرحلے میں توجہ صرف زیادہ پینلز لگانے کے بجائے ایسے مکمل نظام کی تشکیل پر ہوگی جو زیادہ مؤثر، پائیدار، قابلِ اعتماد اور طویل عرصے تک قابلِ استعمال رہیں۔ ایسے میں پاکستانی خریداروں کے لیے صرف ’’کم قیمت‘‘ کے بجائے ’’طویل مدتی قدر‘‘ کو فیصلہ کن معیار بنانا زیادہ اہم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر، پیپلز پارٹی نے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست بلاول بھٹو کو ارسال کردی

وزیراعظم شہباز شریف کی  وزیر پیٹرولیم کو ڈیزل قیمتوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت

مہک پنڈی والی کی دھواں دھار بیٹنگ نے سب کو حیران کردیا، پاکستان ویمنز ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ

غزہ پر جارحیت، حماس کا نیتن یاہو پر جنگ بندی مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام

راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی، سڑکیں تالاب بن گئیں، گاڑیاں ڈوب گئیں، میٹرو کی چھتیں ٹپکنے لگیں

ویڈیو

پاکستان میں کون سے نئے صوبے بننے چاہئیں؟ اراکین پارلیمنٹ کی رائے

وی ایکسکلوسیو: عمران خان بیمار ہیں تو انہیں طبی سہولیات ملنی چاہییں، رانا احسان افضل

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد