حماس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر غزہ جنگ بندی مذاکرات کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا اور ثالث ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر معاہدے کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالیں۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بدستور پرعزم ہے، تاہم اسرائیلی کارروائیاں مذاکراتی عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہ بیان غزہ شہر میں ایک کیفے پر اسرائیلی حملے کے بعد سامنے آیا، جس میں ایک بچے سمیت 6 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ
حماس نے حملے کو ’نئی نسل کش کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور معاہدے پر عمل درآمد کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے دانستہ طور پر کیا گیا اقدام ہے۔ تنظیم کے مطابق قاہرہ میں حالیہ مذاکرات اور جاری ثالثی کوششوں کے دوران یہ حملہ نیتن یاہو کی جانب سے مذاکرات ناکام بنانے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔
حماس نے کہا کہ وہ اور دیگر فلسطینی گروہ جنگ بندی معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ تنظیم نے امریکی انتظامیہ، ثالثوں اور ضمانتی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے کی پابندی کرے، کارروائیاں روکے اور شرم الشیخ معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیے غزہ جنگ بندی منصوبہ: ٹرمپ کے داماد کی اسرائیل اور حماس سے بات چیت بے نتیجہ ختم
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ حماس کو پہلے غیر مسلح ہونا ہوگا، جس کے بعد ہی غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیار چھوڑنے پر اس وقت آمادہ ہوگی جب اس کے ساتھ اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار اور منظم انخلا یقینی بنایا جائے گا۔
غزہ وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 1,266 فلسطینی شہید اور 4,200 زخمی ہوچکے ہیں۔ غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں، جبکہ علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی بھی ہوئی ہے۔














