چینی روبوٹ کمپنی کی اسٹاک مارکیٹ میں شاندار انٹری، پہلے ہی روز حصص میں 600 فیصد سے زیادہ اضافہ

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی انسان نما روبوٹ بنانے والی کمپنی یونٹری روبوٹکس کے حصص نے شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں پہلے ہی روز 600 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کرکے سرمایہ کاروں کی بھرپور توجہ حاصل کرلی۔

یونٹری کا باضابطہ نام یوشو ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ ہے۔ کمپنی کے حصص بدھ کو شنگھائی کی ٹیکنالوجی پر مرکوز اسٹار مارکیٹ میں 1,100 یوآن یعنی تقریباً 163 ڈالر کی قیمت پر کھلے، تاہم ابتدائی تیزی کے بعد قیمت کم ہوکر تقریباً 900 یوآن تک آگئی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی کمپنی کی عالمی سطح پر سُبکی

یونٹری چین کی پہلی انسان نما روبوٹ ساز کمپنی بن گئی ہے جس کے حصص سرزمین چین کی اسٹاک مارکیٹ میں فہرست ہوئے ہیں۔ کمپنی کا قیام 2016 میں عمل میں آیا تھا اور اس کا صدر دفتر ہانگژو میں ہے۔

c213e750 9ad2 11f1 b2f7 5d1639b20e22.jpg

کمپنی انسان نما روبوٹس کے علاوہ 4 ٹانگوں والے روبوٹس، حسّاس آلات اور خودکار بازو بھی تیار کرتی ہے۔ یونٹری نے گزشتہ سال 5 ہزار 500 سے زیادہ انسان نما روبوٹس فروخت کیے جبکہ 2025 میں کمپنی کا خالص منافع 278 ملین یوآن رہا۔

چین کی روبوٹکس میں بڑھتی دلچسپی

چین نے روبوٹکس کو اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کے شعبے کے طور پر اہمیت دینا شروع کردی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹس سے توقع کی جارہی ہے کہ مستقبل میں کارخانوں، اسپتالوں اور ممکنہ طور پر گھروں میں بھی ان کا استعمال بڑھے گا۔

چینی روبوٹ ساز کمپنیوں کو اس وجہ سے بھی توجہ مل رہی ہے کہ وہ بعض امریکی حریفوں کے مقابلے میں نسبتاً کم قیمت پر روبوٹس پیش کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انسان یا مشین؟ چین میں جذبات سمجھنے والے حیرت انگیز حقیقی ہیومنائیڈ روبوٹس متعارف

یونٹری کے چار ٹانگوں والے روبوٹس کی ابتدائی قیمت تقریباً 2,700 ڈالر ہے، جبکہ 2024 میں متعارف کرایا گیا انسان نما جی ون روبوٹ تقریباً 13,500 ڈالر میں دستیاب ہے۔

4e79dc70 9b89 11f1 926d 31bf4ab04926.jpg

کمپنی نے اپنے روبوٹس کی تشہیر بھی بڑے پیمانے پر کی ہے۔ اس کے روبوٹس بیجنگ میں جاری 2026 عالمی انسان نما روبوٹ کھیلوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل جی ون روبوٹس نے چین کے موسم بہار کے تہوار کی تقریب میں مارشل آرٹس کی کارکردگی پیش کرکے بھی توجہ حاصل کی تھی۔

چین اور امریکا میں روبوٹکس کی دوڑ تیز

یونٹری کے حصص کی مارکیٹ میں شاندار آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین اور امریکا کے درمیان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مسابقت میں تیزی آرہی ہے۔

امریکا نے جولائی میں قومی سلامتی اور مقامی صنعت کے تحفظ سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے چین میں تیار کیے جانے والے نئے انسان نما اور چار ٹانگوں والے روبوٹس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے چین نے تجارت کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

امریکا میں ٹیسلا، ایمازون اور بوسٹن ڈائنامکس سمیت متعدد کمپنیاں انسان نما روبوٹس تیار یا آزما رہی ہیں، تاہم کئی منصوبے ابھی ترقی کے مراحل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت اب بھکاریوں کے پیٹ پر بھی لات مارے گی؟ ری چارجنگ کو ترستے روبوٹ نے سڑک پر ہاتھ پھیلا دیے

ماہرین کے مطابق یونٹری کے حصص کی مارکیٹ میں کارکردگی دیگر چینی روبوٹ ساز کمپنیوں کے لیے اہم پیمانہ ثابت ہوسکتی ہے۔ لیجو روبوٹکس اور ایجی بوٹ سمیت کئی چینی روبوٹ ساز کمپنیاں بھی اسٹاک مارکیٹ میں فہرست ہونے پر غور کررہی ہیں۔

b7b43070 9aba 11f1 81ae 010a5ad83b46.jpg

روبوٹکس کے شعبے میں بڑھتی سرمایہ کاری کے باوجود بیٹری کی مدت، قابل اعتماد کارکردگی اور صارفین کی رازداری جیسے مسائل اب بھی اہم چیلنجز ہیں، خصوصاً ان روبوٹس کے حوالے سے جو گھروں میں استعمال کیے جانے کے لیے تیار کیے جارہے ہیں۔

فی الحال توقع کی جارہی ہے کہ کارخانے اور دیگر تجارتی مراکز روبوٹکس کی بڑھتی ہوئی طلب کا بڑا ذریعہ بنیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp