کیا عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے؟ اسد قیصر نے بتادیا

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے، حکومت کو عدالتی حکم پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کو عمران خان کی اسپتال منتقلی کا عدالتی فیصلہ ماننا ہی ہوگا، قانونی ماہرین

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق واضح ہدایات دی ہیں اور حکومت کو ان پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر سپریم کورٹ جیسے بڑے عدالتی فورم سے فیصلہ آئے اور اس پر عملدرآمد نہ ہو تو یہ انتہائی خطرناک بات ہوگی۔

اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کے سینئر رہنما بھی کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے گا، اس لیے امید ہے کہ عمران خان کو جلد اسپتال منتقل کردیا جائے گا۔

اسپیکر ایاز صادق سے ملاقات میں کیا بات ہوئی؟

اسد قیصر نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات کی، جس میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور اعظم نذیر تارڑ بھی شریک تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وفد نے ملاقات میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ عمران خان کے معاملے پر فیصلہ دے چکی ہے اور پارٹی چاہتی ہے کہ عدالتی فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کا معاملہ، وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کردی

اسد قیصر کے مطابق حکومتی نمائندوں نے قانونی اور تکنیکی معاملات کا حوالہ دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سیاست اپنی جگہ ہے لیکن بنیادی انسانی اور آئینی حقوق ایک الگ معاملہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔

عمران خان کو بنی گالا میں رکھنے کی تجویز

عمران خان کو اسپتال میں علاج کے بعد بنی گالا کو سب جیل قرار دے کر وہاں رکھنے کے امکان کے بارے میں اسد قیصر نے کہا کہ قانونی طور پر یہ معاملہ قابل غور ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ عمران خان سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی مطالبہ عمران خان کے لیے انصاف ہے اور ان کے خلاف مقدمات میرٹ کے مطابق چلائے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور اگر انہیں میرٹ پر دیکھا جائے تو عمران خان کو 2 دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہیے۔

اسد قیصر نے کہا کہ عمران خان کے بنیادی اور آئینی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے اور صحت کے معاملے میں انہیں مناسب طبی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

نواز شریف کو ماضی میں دی گئی سہولت کی مثال

اسد قیصر نے صحت کے معاملے میں نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کا معاملہ سامنے آیا تو عمران خان نے سیاسی مخالفت کے باوجود ان کی صحت کو اہمیت دی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت عمران خان نے پارٹی کے 7، 8 رہنماؤں کو مشاورت کے لیے بلایا تھا، جن میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الٰہی اور شیریں مزاری سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد سے بھی ٹیلی فون پر نواز شریف کی طبی صورتحال کے بارے میں رائے لی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے عمران خان کو بنی گالہ منتقلی کا حکم دیا تو حکومت اسے تسلیم کرے گی، رانا ثنااللہ

اسد قیصر کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد نے طبی بنیادوں پر نواز شریف کے علاج سے متعلق اپنی رائے دی، جس کے بعد عمران خان نے ڈاکٹر کے مشورے کو اہمیت دی اور نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان کا مؤقف تھا کہ صحت کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے، سیاست اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملے پر دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔

اسد قیصر نے بتایا کہ نواز شریف 6 نومبر سے 19 نومبر تک 13 دن جاتی امرا میں رہے تھے اور اس دوران ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے ایک اور موقع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 26 ماہ سے 7 ماہ تک نہیں بلکہ ایک طویل عرصے کے دوران جاتی امرا میں بھی رہے اور انہیں وہاں سب جیل کی سہولت دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اسی مثال کی بنیاد پر عمران خان کو بھی طبی ضرورت کے مطابق پہلے اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے اور بعد میں بنی گالا کو سب جیل قرار دے کر وہاں رکھنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

بلاول بھٹو سے اپوزیشن کی کیا بات ہوئی؟

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے اسد قیصر نے کہا کہ یہ سیاسی رابطوں کے سلسلے میں اہم پیش رفت تھی۔

ان کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کافی سیاسی اختلافات اور فاصلے ہیں، تاہم محمود خان اچکزئی کے ذریعے دونوں جانب رابطے بہتر بنانے اور سیاسی خلا کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

اسد قیصر نے بتایا کہ بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کو کمیٹی میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ عمران خان نے کیا تھا، اس لیے اگر عمران خان سے ملاقات ہوتی ہے تو یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا جائے گا اور ان کی ہدایت کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کا معاملہ

پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بیک چینل رابطوں کے حوالے سے سوال پر اسد قیصر نے کہا کہ ان کے علم میں فی الحال ایسا کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی سے رابطہ ہے، تاہم یہ رابطہ سیاسی مذاکرات کے بجائے بعض انتظامی اور سکیورٹی معاملات کے حوالے سے ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ فوج بھی ان کی ہے اور پاکستان بھی ان کا ملک ہے۔ پی ٹی آئی تمام ریاستی اداروں کو اپنا سمجھتی ہے، اگرچہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس کے ساتھ بہت ظلم اور زیادتی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں، خواتین، بچوں اور کاروباری افراد کو درپیش مشکلات کے باوجود پی ٹی آئی پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ یہ ملک کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ سب کا ہے۔

سیاسی رواداری اور مخالفین سے رابطے

اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے ضروری ہیں۔ پی ٹی آئی نے سیاسی مخالفین کے ساتھ بات چیت کا آغاز اسی سوچ کے تحت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی مخالفین ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کریں گے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور آئین و قانون کی بالادستی قائم ہو۔

خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش

اسد قیصر نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بنوں، ٹانک اور لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی کے مسائل سنگین ہیں، جبکہ دیر میں ایک پولیس چوکی پر حملے اور قبضے کا واقعہ بھی پیش آیا۔

ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد ہونا چاہیے، کیونکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

نئے صوبوں کے قیام پر پی ٹی آئی کا مؤقف

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا اس معاملے پر اپنا نکتہ نظر موجود ہے، تاہم ہر صوبے کی صورتحال مختلف ہے اور نئے صوبوں کے معاملے کو ہر صوبے کے حالات کے مطابق الگ الگ دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اس حوالے سے کوئی حتمی تجویز یا قانون سامنے نہیں آیا۔ اگر حکومت کی جانب سے کوئی قانون یا آئینی ترمیم پیش کی جاتی ہے تو پی ٹی آئی اپنا مؤقف سامنے رکھے گی۔

27 ستمبر کے احتجاج کی کال برقرار ہے؟

27 ستمبر کو احتجاج کی کال کے حوالے سے اسد قیصر نے کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال پارٹی کی توجہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنے پر مرکوز ہے۔ آئندہ 2، 3 دن عمران خان کی اسپتال منتقلی اور ان سے متعلق معاملات کے حوالے سے اہم ہیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ اس کے بعد پارٹی کی سیاسی کمیٹی احتجاج کی کال اور دیگر سیاسی معاملات پر دوبارہ غور کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp