پاکستانی کوہ پیما، سیاح اور سفر کی ویڈیوز بنانے والی عاصمہ مشتاق اسپینٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران بلند مقام پر طبیعت خراب ہونے کے باعث انتقال کرگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: براڈ پیک پر لاپتا پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی
عاصمہ مشتاق حال ہی میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپینٹک چوٹی کو سر کرنے والی مہم کا حصہ بنی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنے رہنما علی اکبر کے ہمراہ کامیابی سے چوٹی سر کی اور اس وقت ان کی صحت بہتر تھی۔

تاہم چوٹی سے واپسی کے دوران بلند مقام کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ ان کے رہنما نے انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
Pakistani mountaineer Dr Asma Mushtaq has died while descending Spantik (7,027 m), also known as Golden Peak, in Pakistan’s Karakoram on 20 August.
According to a statement from Karakoram Calling, Asma successfully reached the summit in good health alongside her mountain guide,… pic.twitter.com/X5tfMTfLCf
— Everest Today (@EverestToday) August 20, 2026
عاصمہ مشتاق کی میت واپس لانے کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جارہا ہے۔ مہم کی منتظم تنظیم قراقرم کالنگ ٹریکس کی جانب سے بھی متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ اور ضروری انتظامات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

عاصمہ مشتاق 7 فروری 1992 کو پیدا ہوئی تھیں اور انہیں پہاڑوں سے گہری محبت اور مہم جوئی کے شوق کے باعث کوہ پیمائی کی برادری میں جانا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خاتون کوہ پیما نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ’ایورسٹ ’سر‘ کرلی
عاصمہ مشتاق کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔

صارفین نے کہا کہ بلند مقامات پر پیدا ہونے والی بیماری خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے ایسی صورتحال میں بروقت طبی امداد انتہائی اہم ہوتی ہے۔ کئی افراد نے عاصمہ مشتاق کی پہاڑوں، قدرتی مناظر اور سفر سے محبت کو یاد کرتے ہوئے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔














