وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز اس لیے لایا گیا کیونکہ الشفا انٹرنیشنل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں نے مجمع لگا رکھا تھا۔ توہین عدالت حکومت نے نہیں بلکہ ان لوگوں نے کی جنہوں نے مجمع نہ لگانے کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ہم عدالت کا فیصلہ من و عن تسلیم کرتے ہیں اور اس پر عمل کرنا چاہتے تھے، تاہم سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے لوگ الشفا انٹرنیشنل کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ بہت سے وی لاگرز اور ویڈیوز بنانے والے بھی پرسوں رات سے یہ کام کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال میں ہوا، صحتمند قرار دیے جانے پر واپس اڈیالا بھیجا، عطاتارڑ
طلال چوہدری نے کہا کہ علاج عمارتوں یا چیزوں نے نہیں بلکہ ڈاکٹرز نے کرنا ہوتا ہے، اس لیے یہ تجویز دی گئی کہ قریب ترین ایسی جگہ منتقل کیا جائے جہاں سیکیورٹی کا مسئلہ نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پمز میں پہلے ہی عمران خان کا علاج ہورہا تھا، ان کا ریکارڈ موجود تھا جبکہ آنکھ کے علاج کا فالو اَپ بھی موجود تھا۔ اس صورتحال میں بہترین آپشن پمز ہی تھا، جہاں عدالت کے حکم پر بھی عمل کیا جاسکتا تھا اور پی ٹی آئی کے لوگوں کی جانب سے پیدا کی گئی صورتحال سے بھی بچا جاسکتا تھا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ اب توہین عدالت کی بات کر رہے ہیں، حالانکہ توہین عدالت تو ان لوگوں نے کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح طور پر لکھا تھا کہ وہاں کوئی اجتماع نہیں ہوگا، لیکن پی ٹی آئی نے اس حکم کا کوئی خیال نہیں کیا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کی پوری کوشش تھی کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد ہو، اسی وجہ سے حکومت نے اپنی نظرثانی درخواست بھی واپس لے لی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پرائیویٹ اسپتال میں منتقلی کا عدالتی فیصلہ، نظر ثانی درخواست میں حکومت نے کیا اعتراضات اٹھائے؟
انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت میں یہ ظرف نہیں کہ وہ کسی کی بیماری یا کمزوری کو سیاسی ہتھیار بنا کر اس پر سیاست کرے۔
طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے عمران خان کے علاج میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، انہیں پہلے بھی 5 مرتبہ پمز لایا جاچکا ہے اور ان کی آنکھ کا علاج جاری رہا ہے، جبکہ گزشتہ رات 6ویں مرتبہ ان کا پمز میں علاج کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے دن سے عمران خان کے علاج کے حق میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ ان کی ورزش کی مشین واپس لے لی جائے، کوئی دوسری چیز واپس لے لی جائے یا انہیں علاج کی سہولت فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اس سے پہلے بھی 5 مرتبہ پمز آچکے ہیں اور ان کی آنکھ کا علاج جاری ہے۔ گزشتہ رات بھی 6ویں مرتبہ ان کی طبیعت کا معائنہ اور علاج کیا گیا، اس وقت کسی عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ الشفا انٹرنیشنل کے باہر لوگ موجود تھے، تاہم اگر خاندان کے کچھ افراد آس پاس آگئے تھے تو اس میں تحریک انصاف کا کیا قصور ہے، کیونکہ پارٹی نے تو لوگوں کو جمع نہ ہونے کی ہدایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت نے عدالتی حکم کی روح کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کرا دیا
انہوں نے کہا کہ الشفا انٹرنیشنل کے باہر پیدا ہونے والی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسپتال بہت بڑی جگہ نہیں ہے اور وہاں پہلے ہی بہت سے مریض موجود ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی تھی کہ دیگر مریض بھی متاثر ہوتے اور ان کا علاج بھی متاثر ہوتا۔
طلال چوہدری کے مطابق اگر لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنا پڑتی اور آنسو گیس یا دیگر اقدامات کی ضرورت پیش آتی تو اسپتال کے قریب ایسا کرنا انتہائی نامناسب ہوتا۔ اسی صورتحال میں پمز ایک بہتر اور محفوظ انتخاب تھا، جہاں تمام ضروری طبی سہولیات اور متعلقہ ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ان کی بہن نے بھی بتایا کہ وہ صحت مند اور فٹ ہیں۔ ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق تھا اور آنکھ کی حالت بھی بہتر ہورہی تھی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹرز نے عمران خان کی طبی حالت کا جائزہ لیا اور اگر انہیں مزید ٹیسٹ یا کچھ دن اسپتال میں رکھنے کی ضرورت ہوتی تو ڈاکٹرز ایسا کرسکتے تھے۔ مریض کی خواہش اپنی جگہ، لیکن اسپتال میں رکھنے یا واپس جیل منتقل کرنے کا فیصلہ ڈاکٹرز نے کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو عمران خان کی کسی ایسی طبی سہولت پر اعتراض نہیں جو ان کا حق ہے، لیکن سیاسی سرگرمیوں، سڑکیں بند کرنے، جلسے کرنے اور لوگوں کو جمع کرکے کسی ادارے پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے: طارق فضل چوہدری
طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف اب توہین عدالت کی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کی بات کررہی ہے، لیکن ان کے مطابق پہلی توہین عدالت خود ان لوگوں نے کی جنہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود مجمع لگایا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ وہاں کوئی اجتماع نہیں ہوگا، اس کے باوجود لوگ جمع ہوئے۔ حکومت نے عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنی نظرثانی درخواست بھی واپس لے لی تھی۔
وزیر مملکت نے ستمبر میں تحریک انصاف کے احتجاج کے حوالے سے کہا کہ عمران خان نے اپنی بہن کے ذریعے سہیل آفریدی کو احتجاجی مہم تیز کرنے کا پیغام دیا ہے، جبکہ سہیل آفریدی نے 20 لاکھ افراد لانے کے دعوے کو بڑھا کر 40 لاکھ افراد تک پہنچانے کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ماضی کے احتجاج سے سبق سیکھے۔ 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات کے علاوہ استعفوں سمیت مختلف اقدامات کیے گئے، لیکن ان کے بقول 20 لاکھ تو دور کی بات، 2 لاکھ افراد بھی جمع نہیں ہوسکے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ریاست کسی قسم کی بلیک میلنگ کو تسلیم نہیں کرتی اور اگر تحریک انصاف احتجاج کے ذریعے کوئی نیا تجربہ کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا فیصلہ ہے، تاہم اسے اپنے آپ کو بھی امتحان میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سخت سیکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل، 6 رکنی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم معائنے کے لیے متعین
حکومت اور ریاست کے درمیان کسی اختلاف کے تاثر کے حوالے سے سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو جیل سے پمز منتقل کرنے اور واپس جیل بھیجنے کا فیصلہ انتظامیہ نے حالات اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی تسلی اور معائنے کے بعد ایک صحت مند شخص، جو قیدی بھی ہے، کو واپس جیل منتقل کردیا گیا۔ ان کے مطابق اس معاملے میں کسی اور ادارے یا شخصیت کے ملوث ہونے کی بات درست نہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر عمران خان واقعی سیاسی طور پر اتنے ہی بااثر ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ ان کے بقول 9 مئی، 26 نومبر، اسمبلیاں توڑنے اور استعفوں سمیت مختلف سیاسی اقدامات کے باوجود اب تحریک انصاف کی بات چیت اور ملاقاتوں کے مطالبات تک بات آچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کئی مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں اور یہ بات گزشتہ روز بھی دہرائی گئی ہے۔ طلال چوہدری کے مطابق وزیراعظم اس معاملے پر پہلے دن سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور اپوزیشن لیڈر سے خود چل کر ملاقات کرنے کی مثال بھی موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے کو تحریک انصاف اور اس کے بعض وی لاگرز نے سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا، لیکن ان کے بقول اس معاملے میں کوئی خفیہ سازش نہیں ہوئی بلکہ عدالتی حکم پر عمل درآمد اور مریض کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔














