وسائل کی کمی بھی بلوچستان کی نوجوان کوہ پیما ملائکہ خان خلجی کے حوصلے پست نہ کرسکی، کوہ پیمائی کے لیے مہنگے جوتے خریدنے کے بجائے کرائے پر لے کر اسکردو میں 640 میٹر بلند پہاڑ سر کرنے والی ملائکہ اب اسپانٹک سمیت 7 اور 8 ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو سر کرنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملائکہ خان خلجی نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے پہاڑوں پر جانے کا شوق تھا اور وہ اپنے والد اور بڑے بھائی کے ہمراہ کوئٹہ کے چلتن اور تکتو پہاڑوں پر جاتی رہی ہیں، تاہم پیشہ ورانہ طور پر کوہ پیمائی کو آگے بڑھانے کے لیے انہیں مناسب موقع اور راستے کی ضرورت تھی۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں انہیں پاکستان بھر سے منتخب کی گئی 11 لڑکیوں پر مشتمل کوہ پیماؤں کی ٹیم میں شامل کیا گیا، جس میں وہ سب سے کم عمر جبکہ بلوچستان سے واحد لڑکی تھیں۔ ٹیم نے اسکردو میں 640 میٹر بلند پہاڑ کی مہم مکمل کی۔
ملائکہ خان خلجی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ان کا ہدف صرف چھوٹی چوٹیوں تک محدود نہیں بلکہ وہ پہلے اسپانٹک اور اس کے بعد پاکستان کی 7 اور 8 ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو سر کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کوہ پیمائی کے دوران سب سے بڑا چیلنج خاندان سے اجازت حاصل کرنا تھا۔ ماضی میں کئی مرتبہ انہیں مواقع ملے لیکن خاندان کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی، تاہم اس مرتبہ ان کے بڑے بھائی نے ان کی حمایت کی، جس کے بعد والد بھی راضی ہوگئے۔
ملائکہ کے مطابق ان کے خاندان اور معاشرے میں لڑکیوں کے لیے کوہ پیمائی کو اب بھی عام کھیل کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بعض رشتہ داروں نے تو پہاڑوں پر جانے پر انہیں ’پاگل‘ بھی کہا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی بھی ایک کھیل اور ایڈونچر اسپورٹس کا حصہ ہے اور لڑکیوں کو بھی اس میدان میں آگے آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت پاکستان میں بہت سی لڑکیوں کو پہاڑوں پر جانے کا شوق ہوسکتا ہے لیکن انہیں خاندانوں کی اجازت اور معاونت نہیں ملتی، لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی صلاحیت ثابت کریں، کامیابی حاصل کریں اور اپنی فیملی کا اعتماد جیتیں، اس کے بعد خاندان بھی ان کا ساتھ دے گا۔
مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ملائکہ نے بتایا کہ وہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ فار ٹورزم، ہاسپیٹیلٹی اینڈ کلچر میں زیر تعلیم ہیں جبکہ الپائن کلب نے انہیں اسکالرشپ دی، جس سے مہم کے زیادہ تر اخراجات پورے ہوئے، تاہم کوہ پیمائی کا سامان انتہائی مہنگا ہونے کے باعث وہ جوتے سمیت بعض ضروری سامان خریدنے کے بجائے کرائے پر لے کر مہم پر گئیں۔
ملائکہ خان خلجی نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ انہیں مستقبل کی کوہ پیمائی مہمات کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ نہ صرف خود مزید بلند چوٹیوں کو سر کرسکیں بلکہ بلوچستان کی مزید لڑکیوں کو بھی اس کھیل میں آگے آنے کا موقع مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہم میں بلوچستان سے وہ واحد لڑکی تھیں جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے 3-3 اور 4-4 لڑکیاں ٹیم کا حصہ تھیں، وہ چاہتی ہیں کہ آئندہ مہم میں بلوچستان سے بھی کئی لڑکیاں ٹیم کا حصہ بنیں اور قومی سطح پر صوبے کی نمائندگی کریں۔













