نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوگیا، بڑے صوبوں سے اختیارات نچلی سطح تک نہیں پہنچ سکتے، مصطفیٰ کمال

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کا قیام اب ناگزیر ہوچکا ہے، کیونکہ موجودہ بڑے صوبوں کے نظام میں وسائل اور اختیارات عام پاکستانی کی دہلیز تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک چلانے والے تمام اسٹیک ہولڈرز اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاح کے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کو ایک سال میں 300 ارب روپے سے ترقی دی گئی تو آج بھی لوگ اس دور کے کاموں کو یاد کرتے ہیں، جبکہ آج شہر کے لیے ہزاروں ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود مسائل برقرار ہیں۔ ان کے بقول مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نظام کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

انہوں نے کہا کہ ایک طرف کراچی سمیت سندھ کو 263 ارب روپے، پنجاب کو ہزاروں ارب، خیبر پختونخوا کو 1500 ارب اور بلوچستان کو 900 ارب روپے ملتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کراچی کے مسائل حل نہیں ہورہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ وسائل واقعی شہریوں کی فلاح پر خرچ ہوتے تو کراچی کی حالت مختلف ہوتی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کے شہری طویل عرصے سے پانی، سیوریج، کچرے، سڑکوں، پولیس، اسپتالوں اور اسکولوں سمیت بنیادی سہولتوں کے اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آئینی ترامیم کے ذریعے بھی مقامی اختیارات اور صوبائی فنانس کمیشن کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ مطالبات مؤثر طور پر آگے نہ بڑھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ اب معاملہ صرف کراچی یا کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ ملک کو بچانے اور بہتر انداز میں چلانے کا مسئلہ بن چکا ہے۔ موجودہ صوبائی اکائیوں کے حجم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان رقبے یا آبادی کے اعتبار سے دنیا کے متعدد ممالک سے بڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نئے صوبے بنیں یا نہیں؟ سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا منقسم

وفاقی وزیر نے کہا کہ اب یہ احساس مضبوط ہوچکا ہے کہ موجودہ نظام میں چاہے کتنے ہی اچھے حکمران یا افسر تعینات کردیے جائیں، اختیارات، وسائل اور بہتر حکمرانی عام پاکستانی کی دہلیز تک نہیں پہنچائی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور ریاست کے اہم اداروں کی سطح پر یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ملک کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مزید انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp