وزیراعظم کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی پیشکش، کیا حکومت اور پی ٹی آئی میں بات چیت ممکن ہے؟

اتوار 23 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو ایک بار پھر بامقصد مذاکرات کی پیشکش کردی ہے، جس کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ممکنہ بات چیت کے امکانات پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ سیاسی مکالمے کو ترجیح دی ہے اور وہ اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ اور بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ حکومت کی اس پیشکش کا کیا جواب دیتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سیاسی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ’اختیارات رکھتے ہیں تو آگے بڑھیں‘، حکومت نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کردی

ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا دونوں جانب سے ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے عملی پیشرفت کی جائے گی یا سیاسی کشیدگی برقرار رہے گی؟

اپوزیشن حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی، ابصار عالم

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں اپوزیشن فوری طور پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔

ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ہونے والی حالیہ ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کے قیام پر زور دیا گیا ہے، جس کے بعد امکان ہے کہ اپوزیشن پہلے حکومت کو سیاسی دباؤ میں لانے کی کوشش کرے گی۔

ابصار عالم کے مطابق اپوزیشن اس کے بعد ہی مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے گی اور اگر بات چیت کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے لیے اپنی شرائط طے کرے گی۔

ان کے بقول موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے وہ سیاسی گنجائش موجود نہیں جو ماضی میں تھی۔

ہوائی پیشکشوں کے بجائے حکومت کو اب عملی قدم اٹھانا چاہیے، مجیب الرحمان شامی

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی ایسی پیشکشیں پہلے بھی کئی بار سامنے آ چکی ہیں، تاہم ان کا کوئی عملی نتیجہ نہیں نکلا۔

ان کے مطابق محض بیانات اور ہوائی پیشکشوں کے بجائے حکومت کو اب عملی قدم اٹھانا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کو باقاعدہ خط لکھیں اور انہیں عصرانے یا عشائیے پر مدعو کرکے براہِ راست مذاکرات کا آغاز کریں، تاکہ سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جا سکے۔

مجیب الرحمان شامی کے مطابق اگر حکومت واقعی مذاکرات چاہتی ہے تو اسے محض پیشکش کرنے کے بجائے اپوزیشن کو باضابطہ طور پر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پہل کرنا ہوگی۔

پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری سے ہی مذاکرات کر سکتی ہے، احمد ولید

تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی یہ پہلی پیشکش نہیں، اس سے قبل بھی کئی مرتبہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دی جا چکی ہے، تاہم ہر بار یہ پیشکش نظر انداز ہوتی رہی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ماضی میں بھی مذاکرات کے لیے کسی حد تک آمادگی کا اظہار کر چکی ہے، حتیٰ کہ مذاکراتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی، لیکن ایک آدھ ابتدائی ملاقات کے بعد یہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔

احمد ولید کے مطابق اس وقت تحریک انصاف کے اندر بھی ایسا کوئی فیصلہ ساز موجود نہیں جو حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کر سکے، کیونکہ اہم اور حتمی فیصلے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری سے ہی ہوں گے۔ اگر عمران خان مذاکرات کی اجازت دیتے ہیں تو تحریک انصاف حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے آگے بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی حالیہ پیشکش میں بظاہر عمران خان کی رہائی یا اس حوالے سے کسی خصوصی ریلیف کا ذکر نہیں، بلکہ حکومت شاید اپوزیشن کو دیگر سیاسی اور قومی معاملات میں ساتھ لے کر چلنے کی خواہاں ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے لیے یہ جاننا بھی اہم ہوگا کہ حکومت آخر کن معاملات پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور کیا ان مذاکرات میں عمران خان کے حوالے سے بھی کوئی ریلیف یا بات چیت شامل ہوگی؟

احمد ولید کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کم دکھائی دیتا ہے کہ تحریک انصاف وزیراعظم کی اس تازہ مذاکراتی پیشکش پر فوری اور مثبت ردعمل دے گی، کیونکہ اس وقت اپوزیشن، خصوصاً پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے زیادہ آمادہ نظر نہیں آ رہی۔

موجودہ صورتحال میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان نہیں، ضیغم خان

تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان بنیادی اختلافات ابھی بھی برقرار ہیں۔ اپوزیشن، خاص طور پر پی ٹی آئی کا مؤقف رہا ہے کہ وہ حکومت کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست مذاکرات کرنا چاہتی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ سیاسی معاملات پر بات چیت سیاسی حکومت کے ساتھ ہی ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے مبینہ طور پر دو شرائط سامنے رکھی گئی تھیں: پہلی یہ کہ پی ٹی آئی 9 مئی کے واقعات پر معذرت کرے، اور دوسری یہ کہ وہ سیاسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرے۔ تاہم پی ٹی آئی اس پوزیشن پر قائم رہی کہ وہ حکومت سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرے گی۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا حکومت کو مذاکرات کا گرین سگنل، قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ

ضیغم خان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے درمیانی راستہ نکالنے کے لیے محمود خان اچکزئی جیسے ثالثوں کے ذریعے حکومت سے رابطے کی کوشش کی، لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو پی ٹی آئی کو براہِ راست سامنے بیٹھنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں کسی بڑے بریک تھرو کے امکانات نظر نہیں آ رہے کیونکہ دونوں فریق اپنی بنیادی پوزیشنز پر قائم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایشین کرکٹ کونسل الیکشن، تاریخ رقم ہو گئی، بھارت کو شکست، پاکستان نے تینوں نشستیں جیت لیں

تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے بڑا اعزاز، اہم سڑک ان کے نام سے منسوب کردی گئی

آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے نام پر نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی مشاورت

بھارت میں اسکول کی عمارت نہ بننے پر بچوں کا احتجاج، کلاسز میں جانے سے انکار

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو پھر ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا سخت ردعمل

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

میدان میں حریف کھلاڑی کو تھپڑ مارنے پر سپر اسٹار لیونل میسی پر جرمانہ عائد

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟