ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی آٹے کا بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں گزشتہ ایک سے 2 ماہ کے دوران آٹے کی فی کلو قیمت میں تقریباً 15 روپے اضافہ ہوا ہے۔ 110 سے 115 روپے فی کلو فروخت ہونے والا آٹا اب 130 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 600 روپے، 50 کلو کا تھیلا 6 ہزار 500 روپے جبکہ 100 کلو آٹے کی بوری 13 ہزار روپے تک فروخت ہورہی ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین بدرالدین نے کہا کہ بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ گندم کی قلت کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایک طرف ملک میں گندم کی وافر پیداوار کا دعویٰ کررہی ہے اور دوسری جانب گندم درآمد کرنے کی بات کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا ایک ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ، ٹی سی پی کو تیاریوں کی ہدایت
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک میں گندم ملکی ضرورت کے مطابق موجود ہے تو درآمد کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ بدرالدین کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران کاشتکاروں کو گندم کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث وہ معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات سمیت ضروری زرعی اخراجات پورے نہیں کرسکے، جس کے نتیجے میں فی ایکڑ گندم کی پیداوار میں 6 سے 8 من تک کمی واقع ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آٹے کی قیمت بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ترسیل کے اخراجات میں اضافہ بھی ہے۔ جو سفر پہلے 24 گھنٹوں میں مکمل ہوجاتا تھا، اب 48 سے 72 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے، جس سے مال برداری کی لاگت بڑھ گئی ہے اور اس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور گندم کی ممکنہ قلت کے خدشات کے پیش نظر بلوچستان حکومت نے گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کردیے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ نے پاسکو سے 5 لاکھ بوری گندم خریدنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ محکمہ انتظامِ اجناس نے پاسکو سے رابطہ کرلیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ پنجاب اور سندھ کی طرز پر گندم مناسب نرخوں پر حاصل کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کی پاسکو سے گندم خریداری پر اپوزیشن کا اعتراض، تحریکِ التوا جمع
ذرائع کے مطابق محکمہ انتظامِ اجناس اور پاسکو حکام کے درمیان ہونے والے اجلاس میں گندم کے نرخ، خریداری اور بلوچستان تک ترسیل سے متعلق معاملات طے کیے جائیں گے۔ گندم کی خریداری کا عمل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ خریدی گئی گندم ستمبر کے دوران بلوچستان پہنچنے کا امکان ہے، جسے آئندہ 4 ماہ کے دوران استعمال کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا اقدام ممکنہ گندم بحران سے قبل سپلائی یقینی بنانے کی کوشش ہے، تاہم صرف گندم کی خریداری کافی نہیں ہوگی۔ اسے بروقت بلوچستان پہنچانے، فلور ملز کو بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے اور بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات پر قابو پانے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔













