چین کے نانجنگ ڈرم ٹاوراسپتال میں کی گئی ایک تاریخی کلینیکل ٹرائل کے دوران جدید اسٹیم سیل تھراپی کے ذریعے 90 فیصد شدید ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کا دل کامیابی سے بحال کر لیا گیا ہے۔
تحقیق میں مریضوں کے اپنے خلیات کو دل کے نئے عضلات میں تبدیل کر کے ان کے دل کے ناکارہ افعال کو نارمل سطح پر لایا گیا ہے، جس سے روایتی بائی پاس سرجری کے مقابلے میں دوگنی بہتری دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت دل کے پٹھوں کے بوڑھے ہونے کا عمل بھی سست کر دیتی ہے۔
تحقیق کے غیر معمولی نتائج اور بائی پاس کا موازنہ
کلینیکل ٹرائل میں 10 شدید متاثرہ مریضوں کو دل کے متاثرہ حصوں میں اسٹیم سیلز کا انجیکشن لگایا گیا، جبکہ موازنے کے لیے 10 دیگر مریضوں کی ’کورونری آرٹری بائی پاس‘ سرجری کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:سیڑھیاں چڑھنے سے دل کے امراض سے موت کا خطرہ 39 فیصد کم ہوسکتا ہے
12 ماہ کے جائزے (فالو اپ) میں دیکھا گیا کہ اسٹیم سیلز حاصل کرنے والے 90 فیصد مریضوں کی حالت انتہائی معمولی علامات تک بہتر ہو گئی اور وہ اپنے روزمرہ کے کام کرنے کے قابل ہو گئے۔
Surgeons in China describe the successful implantation of the world’s lowest body-weight pediatric biventricular intracorporeal assist devices (HeartCon II) for end-stage restrictive cardiomyopathy in this #JTCVS Techniques article: https://t.co/3Q2a25RLnk pic.twitter.com/3VH4KaKMRU
— AATS (@AATSHQ) August 22, 2026
ان مریضوں کے سینے کے جکڑاؤ اور سانس کے پھولنے میں نمایاں کمی آئی، جبکہ 6 منٹ کی واک کے ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی بائی پاس کروانے والے گروپ سے تقریباً دوگنی رہی۔
اس کے برعکس، بائی پاس سرجری کروانے والے صرف 60 فیصد مریض اس حد تک بہتر ہو سکے، جبکہ اس گروپ کا 1 مریض سرجری کے 8 ماہ بعد انتقال کر گیا۔
اسٹیم سیل تھراپی کا سائنسی طریقہ کار
اس جدید طریقہ علاج میں مریض کے اپنے جسمانی خلیات کو پہلے غیر تخصیص شدہ ’آئی پی ایس سی ایس‘ اسٹیم سیلز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد ان سیلز کو دل کے مخصوص عضلاتی خلیات میں ڈھال کر ان جگہوں پر داخل کیا جاتا ہے جہاں کا ٹشو مر چکا ہو یا ناکارہ ہو چکا ہو۔ یہ تکنیک دل میں خلیات کی نئی نمو کو جنم دیتی ہے اور دل کی پمپنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔
بیماری کی شدت اور عطیہ دہندگان کا بحران
ہارٹ فیلیئر کے مریضوں میں سانس پھولنے، شدید تھکاوٹ، ٹانگوں پر سوجن، وزن میں تیزی سے اضافے اور مسلسل کھانسی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
اس وقت اس بیماری کو مکمل ختم کرنے کا واحد ذریعہ ’ہارٹ ٹرانسپلانٹ‘ ہے، لیکن اعضا عطیہ کرنے والوں کی شدید کمی کے باعث اکثریت علاج سے محروم رہتی ہے۔ ایسے میں یہ نئی تحقیق دل کے مریضوں کے لیے ایک انقلاب آفریں امید بن کر سامنے آئی ہے۔
حفاظت اور مستقبل کی سمت
مطالعے کے مطابق اسٹیم سیل تھراپی حاصل کرنے والے مریضوں میں کسی قسم کے شدید منفی اثرات درج نہیں کیے گئے۔
صرف 2 مریضوں میں ’ٹیکی کارڈیا‘ (دل کی دھڑکن کا تیز ہونا) کی شکایت سامنے آئی جو علاج کے 2 سے 3 ہفتوں بعد خود ہی مکمل طور پر ختم ہو گئی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس علاج کے عام استعمال سے قبل مزید بڑے پیمانے پر ٹرائلز اور اس کے ‘رسک ٹو بینیفٹ ریشو’ کا جائزہ لینا ضروری ہو گا۔














