معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان نے نصرت فتح علی خان کی قبر پر قوالی پیش کرنے کے معاملے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے خاندان کی سو سال پرانی روایت کا حصہ ہے اور انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں۔
راحت فتح علی خان نے حال ہی میں ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین تنقید بھی محبت کے اظہار کے طور پر کرتے ہیں تاہم جو لوگ قوالوں کی روایات سے واقف نہیں وہ اس معاملے پر نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
راحت فتح علی خان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی روایت اور ورثے کی پیروی کرتے ہیں، میں نے بھی وہی کیا جو ہماری سو سال پرانی خاندانی روایت ہے۔ ہم قوال اسی طرح کرتے ہیں اور مجھے اپنے کیے پر کوئی افسوس نہیں‘۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبر کے اندر کھڑے نہیں تھے بلکہ قبر کے کنارے کھڑے ہوکر قوالی پیش کررہے تھے اور اس دوران مکمل احترام ملحوظ خاطر رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نصرت فتح علی خان کے مزار پر قوالی اور نوٹوں کی برسات کرنے پر راحت فتح علی پر شدید تنقید
گلوکار نے مزید کہا کہ آپ میرے انداز اور باڈی لینگویج سے دیکھ سکتے تھے کہ میں نے مکمل احترام کیا۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ میرے کسی اپنے نے میرے خلاف اتنی باتیں کیں۔
راحت فتح علی خان کے مطابق قوالی سے قبل قرآن خوانی اور دعاؤں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، جس کے بعد قبر کے کنارے قوالی پیش کی گئی۔
View this post on Instagram
واضح رہے کہ چند روز قبل نصرت فتح علی خان کی برسی کے موقع پر راحت فتح علی خان نے ان کی قبر پر قوالی پیش کی تھی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔














