طالبان نے کابل یونیورسٹی کے متعدد پروفیسرز کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا ہے۔ برطرف کیے جانے والوں میں گلبدین حکمت یار کی قیادت میں قائم حزب اسلامی سے وابستہ عبداللہ کموال، اسداللہ وحیدی اور فیض محمد زلاند شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:افغانستان: کابل یونیورسٹی میں دھماکا، 20 کے قریب طلبہ زخمی
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 5 برس کے دوران یہ تینوں یونیورسٹی پروفیسرز طالبان کی حمایت اور ان کے حق میں لابنگ کرتے رہے اور انہیں طالبان کے حامیوں میں شمار کیا جاتا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں اب عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
منابع به آماجنیوز میگویند که طالبان شماری از استادانِ دانشگاه کابل را از سمتهایشان برکنار کردهاند. در میان افراد برکنارشده، نام عبدالله کامهوال، از اعضای حزب اسلامی به رهبری گلبدین حکمتیار، اسدالله وحیدی و فیضمحمد ځلاند نیز دیده میشود.
این برکناریها در حالی صورت می… pic.twitter.com/3QQkVOJH8X
— Aamaj News (@aamajnews_24) August 24, 2026
رپورٹ کے مطابق بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ برطرفیوں سے کابل یونیورسٹی میں سیاسی مداخلت کا اندازہ ہوتا ہے، جہاں طالبان حکومت کے حامی سمجھے جانے والے اساتذہ کو بھی ملازمت کے تحفظ کی ضمانت حاصل نہیں۔ یہ صورتحال طالبان حکومت کے نظریاتی کنٹرول، من مانے فیصلوں اور سیاسی مداخلت کے باعث جامعات کی خودمختاری کو متاثر کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔
طالبان نے تاحال ان پروفیسرز کی برطرفی کی سرکاری وجہ بیان نہیں کی اور نہ ہی ان کی تعلیمی سرگرمیوں کے مستقبل کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری کی ہیں۔














