’فتنۃ الہندوستان‘ کا بلوچستان کی معیشت پر حملہ، تجارتی گاڑیوں کی لوٹ مار اور عوام کا معاشی استحصال

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں فعال ’فتنۃ الہندوستان‘ کے نام نہاد آزادی پسندوں اور دہشتگردوں کی اصلیت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ عناصر ’وسائل کے تحفظ‘ کا نعرہ لگا کر تجارتی گاڑیوں پر حملے، مال کی لوٹ مار اور ٹرانسپورٹرز سے بھتہ خوری میں ملوث ہیں، جو کہ کسی بھی طور پر وسائل کی حفاظت نہیں بلکہ سیدھی سیدھی ڈکیتی اور معاشی غارت گری ہے۔

دہشتگرد عناصر کی جانب سے تاجروں، ڈرائیوروں اور روزمرہ کی دیہاڑی پر کام کرنے والے محنت کشوں کو نشانہ بنانے کے باعث مقامی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ تجارتی گاڑیوں کو روکنے اور انہیں سلب کرنے سے ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کا روزگار شدید خطرے میں پڑ چکا ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ معاشی تنگی اور بے یقینی کا شکار ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے کالعدم بی ایل اے کی دہشتگردانہ حکمت عملی، غیر ملکی سہولت کاری اور ناکامیوں کا پردہ چاک

رپورٹس کے مطابق پلوں کو دھماکوں سے تباہ کرنا اور اہم قومی شاہراہوں کو بند کرنا بلوچستان کے عوام کے لیے سفر، تجارت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں سخت دشواریاں پیدا کر رہا ہے۔ دہشتگردوں کی جانب سے نافذ کیا جانے والا یہ نام نہاد ’اقتصادی محاصرہ‘ دراصل صوبے کے عوام پر معاشی دباؤ ڈالنے اور ان میں خوف و ہراس پھیلانے کی ایک منظم مہم ہے۔

تجارتی گاڑیوں سے لوٹا ہوا مال عوام میں تقسیم کرنے کے ڈرامے رچا کر یہ عناصر اپنی مجرمانہ کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ لوٹ مار، بھتہ خوری اور معصوم شہریوں کا استحصال کبھی عوامی خدمت کا بدل نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیے بلوچستان میں گرینڈ آپریشن کی تیاری، رولز آف گیم بدلنے کے بعد کیا ہوگا؟

حقیقت یہ ہے کہ ’فتنۃ الہندوستان‘ کے یہ دہشتگرد بلوچستان کے وسائل کے محافظ ہرگز نہیں، بلکہ وہ صوبے کے عوام کے روزگار، معاشی استحکام اور علاقائی ترقی کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp