وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی اسمبلی کے ارکان سے ملاقاتوں کا ایک منظم سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے تحت وہ مختلف اضلاع کے منتخب ارکان سے براہ راست بات چیت کررہی ہیں۔
ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد ارکان اسمبلی کے حلقوں میں درپیش عوامی مسائل سننا، جاری ترقیاتی منصوبوں پر ان کی رائے لینا اور پارٹی کے منتخب نمائندوں اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: خدمت کا موقع ہر کسی کو نہیں ملتا، عہدہ اللہ کی امانت ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
پارٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 2 سال سے یہ تاثر عام تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ایم پی ایز اور ایم این ایز سے نہیں ملتیں اور ان کی شکایات پر توجہ نہیں دیتیں۔ اب ان ملاقاتوں کے ذریعے یہ تاثر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ان ملاقاتوں کا ایک اہم مقصد بیوروکریسی کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے ارکان اسمبلی کو عزت دیتی ہیں اور ان کی بات سنتی ہیں۔ پچھلے 2 سے ڈھائی سال کے دوران بیوروکریسی لیگی ارکان اسمبلی کی بات نہیں سن رہی تھی لیکن اب ان ملاقاتوں کے بعد افسران ارکان کی بات سننے لگے ہیں۔
’مریم نواز جب مختلف اضلاع کے ارکان سے ملتی ہیں تو سب سے پہلے ان کے حلقوں میں جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں پوچھتی ہیں اور بیوروکریسی کے رویے کے حوالے سے بھی معلومات لیتی ہیں۔‘
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی رکن اسمبلی اپنے ضلع میں کسی افسر کے تبادلے کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اس افسر کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ضروری شرط ہے، جس کے بعد ہی اس افسر کا تبادلہ کیا جائے گا۔
’یہ ملاقاتیں پارٹی رہنماؤں کے مطابق اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ وزیر اعلیٰ صرف بیوروکریسی پر انحصار کرتی ہیں اور پارٹی کے منتخب نمائندوں کو نظر انداز کرتی ہیں۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ اب چلتا رہے گا یہ بند نہیں ہوگا۔‘
مریم نواز شریف فروری 2024 میں وزیراعلیٰ بننے کے بعد اپنی انتظامی مصروفیات اور شیڈول کی وجہ سے ارکان اسمبلی سے باقاعدہ اور مسلسل ملاقاتیں نہیں کر پا رہی تھیں۔ پارٹی کے کئی ارکان خصوصاً دیہی حلقوں سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں پولیس اور بیوروکریسی سے اپنے ووٹرز کے مسائل حل کرنے میں مناسب توجہ نہیں مل رہی۔
ان شکایات کے پیش نظر گزشتہ چند ہفتوں سے وزیراعلیٰ نے ارکان اسمبلی سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ دوبارہ فعال کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں اب تک متعدد اضلاع کے درجنوں ارکان صوبائی اسمبلی سے مریم نواز کی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ حالیہ ملاقاتوں میں بہاولنگر، منڈی بہاؤالدین، خوشاب، اٹک، اوکاڑہ، مظفرگڑھ، ملتان اور لودھراں کے ارکان شامل ہیں۔
ان ملاقاتوں میں سیاسی صورتحال، حلقوں میں جاری ترقیاتی کاموں اور عوامی شکایات پر تفصیلی گفتگو ہوتی ہے۔ ارکان اسمبلی الیکٹروبس سروس، سیف سٹی نیٹ ورک، صحت سہولیات، ستھرا پنجاب پروگرام، مقامی سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیگر عوامی منصوبوں پر وزیراعلیٰ کو آگاہ کرتے ہیں اور اپنے حلقوں کی ترجیحات بتاتے ہیں۔
ان ملاقاتوں کا مقصد صرف مسائل سننا نہیں بلکہ ارکان اسمبلی کو یہ احساس دلانا بھی ہے کہ حکومت ان کی رائے کو اہمیت دیتی ہے اور عوامی خدمت کے مشترکہ ایجنڈے پر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
مریم نواز شریف بار بار اس بات پر زور دیتی ہیں کہ پنجاب میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ عوامی منصوبے مکمل کرنا ان کی ترجیح ہے اور ارکان اسمبلی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ ملاقاتیں قریباً 2 سال کے وقفے کے بعد باقاعدگی سے شروع ہوئی ہیں اور اب یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ پارٹی کے منتخب ارکان اور انتظامیہ کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو گا اور عوامی مسائل حل کرنے کا عمل تیز تر ہوگا۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان کی ملاقات، سیاسی امور پر مل کر چلنے پر اتفاق
پارٹی حلقوں میں ان ملاقاتوں کو پارٹی اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی کاموں میں رکاؤٹیں دور ہوں اور ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔












