امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں، ٹرکوں اور آٹو پارٹس پر عائد ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ کینیڈین گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر نیا 50 فیصد ٹیرف یکم جنوری سے نافذ کیا جائے گا۔
یہ اعلان امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات کے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اچانک ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کی جنگلاتی آگ کا دھواں امریکا تک پہنچ گیا، ٹرمپ نے ہرجانہ مانگ لیا
دونوں ممالک نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا ہے۔
کینیڈین حکام کے مطابق امریکا نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ایسے مطالبات پیش کیے جنہیں کینیڈا نے ناقابل قبول قرار دیا، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آخری لمحات میں تبدیلیاں کینیڈا نے کیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کی تازہ ٹیرف دھمکی کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
🚨 TRUMP MOVES TO IMPOSE 50 PERCENT TARIFFS ON CANADIAN AUTOS AND STEEL.
WASHINGTON, UNITED STATES – President Donald Trump has announced that the United States will raise tariffs on Canadian cars, trucks, automotive parts and steel to 50 percent starting January 1, 2027, after… pic.twitter.com/CT7koxXpy6
— The Content Factory (@tcf_updates) August 25, 2026
ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکا کو ’درست رویے‘ کے ساتھ واپس آنا ہوگا۔
کارنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ کینیڈا امریکی ٹیرف کے جواب میں امریکی مصنوعات پر ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ کی بنیاد پر جوابی محصولات عائد کرے گا۔
کینیڈین حکومت نے کہا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں سے متاثر ہونے والے کاروباروں اور کارکنوں کی مدد کے ساتھ ساتھ امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنے کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرے گی۔
مزید پڑھیں: امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 24 ملزمان گرفتار
دوسری جانب اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو کینیڈین تیل، گیس، بجلی اور اہم معدنیات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز دی۔
صدر ٹرمپ نے فورڈ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ اگر کینیڈا امریکی مطالبات کے مطابق نہ چلا تو اسے مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کینیڈا امریکی معیشت کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ کینیڈین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق امریکا اپنی مجموعی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 60 فیصد کینیڈا سے حاصل کرتا ہے، جبکہ قدرتی گیس کی امریکی برآمدات کا تقریباً تمام حصہ کینیڈا کو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: کینیڈا کا امریکا ایران مفاہمت میں پاکستان کے کردار کا اعتراف
تجارتی تنازع نے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ معاہدہ شمالی امریکا میں تقریباً 1.6 ٹریلین ڈالر کی تجارت کی بنیاد ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی کشیدگی سے آزاد تجارتی معاہدے کے خاتمے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے کینیڈا کسادِ زر کا شکار اور طویل مدت تک کم اقتصادی شرح نمو کا سامنا کر سکتا ہے۔













