امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے جنگلات میں لگی شدید آگ سے اٹھنے والے دھویں کے امریکا تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اوٹاوا حکومت کو مزید ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ورلڈ کپ فائنل کے موقع پر کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی سے ملاقات کی، جس میں کینیڈا میں جاری جنگلاتی آگ اور اس کے نتیجے میں شمال مشرقی امریکا میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی پر بات چیت ہوئی۔
واشنگٹن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہیں، تاہم کینیڈا کو جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کا کینیڈا پر بڑا معاشی وار، بیشتر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ
ٹرمپ کا کہنا تھا، ’اگر ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کریں گے، لیکن شاید انہیں کسی نہ کسی صورت ہمیں ہرجانہ ادا کرنا چاہیے، یا پھر ہمیں ان پر مزید ٹیرف عائد کرنا پڑ سکتے ہیں۔‘
امریکی صدر نے اس سے قبل بھی ورلڈ کپ فائنل سے قبل کینیڈا کو اضافی محصولات عائد کرنے کا انتباہ دیا تھا۔ اس دوران خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کینیڈا کے جنگلات سے اٹھنے والا دھواں کھیلوں کے بڑے ایونٹ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
کینیڈا کے مختلف علاقوں، خصوصاً جنگلاتی خطوں میں لگی آگ کے باعث اٹھنے والا گھنا دھواں سرحد عبور کرکے امریکا کی متعدد شمال مشرقی ریاستوں تک پہنچا، جس سے فضائی معیار متاثر ہوا۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں صحت سے متعلق انتباہات جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔
کینیڈا اور امریکی ریاست مینیسوٹا سے آنے والے دھویں کے باعث نیویارک، ورمونٹ، مشی گن اور دیگر علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو احتیاط کا مشورہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ریاست بن جائیں، ٹیرف ختم کردیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو پیشکش
ٹرمپ نے جمعے کے روز کینیڈا پر جنگلاتی آگ سے نمٹنے میں مبینہ غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس صورتحال سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی قیمت بھی کینیڈا کو ادا کرنا چاہیے اور اسے پہلے سے عائد ٹیرف میں شامل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارت، محصولات اور سرحدی معاملات پر حالیہ مہینوں میں اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی کینیڈین مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں دے چکی ہے، جبکہ کینیڈا نے ان اقدامات کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگلاتی آگ کے واقعات میں حالیہ برسوں کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی، خشک موسم، طویل خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات شامل ہیں۔













