گلگت بلتستان کی خواتین کوہ پیماؤں نے رومانیہ کی خاتون کوہ پیما اور پنجاب کے ایک مرد کوہ پیما کے ہمراہ بغیر ہائی آلٹی ٹیوڈ پورٹرز کی مدد کے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کرلی۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق مقامی خواتین کوہ پیماؤں کی ٹیم نے چوٹی سر کرنے کے بعد بحفاظت واپسی کی اور پیر کو اسکردو پہنچ گئی۔
مزید پڑھیں:گلگت بلتستان: سپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد جاں بحق ہونے والی خاتون کوہ پیما اسما مشتاق کون تھیں؟
کامیاب کوہ پیماؤں میں شمع باقر اور سمانہ رحیم کا تعلق شمشال وادی، زونی اسلم کا گلمت وادی گوجال اور زیبا بتول شگری کا ضلع شگر سے ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی بسمہ حسن بھی مہم کا حصہ تھیں تاہم طبیعت خراب ہونے کے باعث چوٹی سے قریباً 250 میٹر نیچے واپسی اختیار کرنا پڑی۔
Cancer patient, Alexandra Vișan from Romania successfully summited Spantik Peak (7,027-metre) situated in Shigar district of #Gilgit_Baltistan pic.twitter.com/mvB0GLLehB
— Jamil Nagri (@jamilnagri) August 24, 2026
رومانیہ کی الیگزینڈرا ویسان نے بھی کینسر کے مرض سے نبرد آزما ہونے کے باوجود اسپانٹک چوٹی سر کی اور بحفاظت واپس پہنچیں۔ مہم کا انتظام پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف کی کمپنی براڈ بوائے ایڈونچرز نے کیا تھا۔
پنجاب کے کوہ پیما ایان عدیل نے بھی اسپانٹک چوٹی سر کی۔ شہروز کاشف کے مطابق ایان عدیل ہائی آلٹی ٹیوڈ پورٹر کی مدد کے بغیر چوٹی سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما بن گئے۔
دوسری جانب خراب موسم کے باعث اسپانٹک چوٹی پر جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت اسکردو منتقل کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر اسما مشتاق جمعرات کو قریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر چوٹی سے واپسی کے دوران جاں بحق ہوئی تھیں۔
مزید پڑھیں:شدید برفباری اور تیز ہوائیں، ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کی منتقلی کا ریسکیو آپریشن مؤخر
الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری کے مطابق 6 ہائی آلٹی ٹیوڈ پورٹرز پر مشتمل ٹیم اتوار کو کیمپ ٹو پہنچی اور کیمپ تھری کی جانب جانے کی کوشش کی، تاہم شدید بارش اور برف باری کے باعث واپس کیمپ ٹو آنا پڑا۔
موسم بہتر ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد ریسکیو ٹیم ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت بیس کیمپ منتقل کرنے کی دوبارہ کوشش کرے گی، جبکہ بعد ازاں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت اسکردو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔














