24 اگست کو امریکا نے ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیوں پر مشتمل ’آپریشن آؤٹ کاسٹ‘ کا اعلان کیا اور 23 اگست کو ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے بیان دیا کہ امریکا اگر اس طرح کی اقتصادی پابندیاں لگائے گا تو تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیں گے۔
اس شدید نوعیت کے اختلاف کے بیچ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 24 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جس کے بعد گزشتہ روز ایرانی صدر کے دفتر کے نائب برائے مواصلات و اطلاعات سید مہدی طباطبائی نے اپنے ایکس پیغام میں کہا ’میڈیا پر چلنے والی کچھ غلط افواہوں کے برعکس جنرل عاصم منیر کا دورہ انتہائی مؤثر (فروٹ فل) اور سفارتی کامیابیوں سے بھرپور تھا اور اس کے اہم سفارتی نتائج جلد سامنے آئیں گے۔‘
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
جنرل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورہ تہران سے واپس آتے ہیں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ تہران روانگی سے قبل بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں امریکا کی جانب سے پاکستان سے درخواست کی گئی کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔
’پاکستان پر دونوں فریقوں کا اعتماد اسے مؤثر ثالث بناتا ہے‘
امریکا کم از کم اس مرحلے پر پاکستان کو محض ایک علاقائی فریق نہیں بلکہ ایران تک پیغام پہنچانے کے قابل ایک ثالث سمجھ رہا ہے۔ دوسری طرف ایران نے بھی پاکستانی قیادت کے ساتھ رابطوں کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جو اعتماد کا فقدان ہے پاکستان اس کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں کیا طے پایا؟
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی عمل میں اہم کردار رکھنے والے محمد باقر قالیباف، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضائی، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مذاکرات میں جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، تنازع کے جلد خاتمے اور ایک مذاکراتی حل کی راہ تلاش کرنے پر بات ہوئی، اور ایرانی قیادت نے پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا۔
اس دورے کے بعد پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں اہم پیشرفت ہوئی اور دونوں فریقوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے درکار اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی صدر کے دفتر کے نائب برائے مواصلات و اطلاعات سید مہدی طباطبائی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ انتہائی مؤثر تھا اور اس کے اہم سفارتی نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ یہ بیان یہ سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ تہران نے پاکستانی کوشش کو محض رسمی سفارتی دورہ نہیں سمجھا۔
امریکا کا اقتصادی پابندیاں سخت کرنے کا اعلان اور ایران کی صورتحال
24 اگست کو امریکی انتظامیہ نے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد ایران کے باقی ماندہ عالمی مالیاتی اور تجارتی روابط کو مزید کمزور اور محدود کرنا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران سے متعلق درجنوں افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والی نئی پابندیوں کا اعلان کیا، جبکہ ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ایوی ایشن اور شپنگ جیسے شعبوں کو بھی دباؤ میں لایا گیا ہے۔
امریکا نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے دیگر ممالک کو بھی پابندیوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے خاص طور پر ایرانی سرکاری بینک، بینک ملی کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس کی بیرون ملک شاخیں بند ہونی چاہییں، ورنہ وہ امریکی ڈالر کے نظام تک رسائی کھو سکتی ہیں۔
’ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ بھی مذاکرات پر دباؤ ڈال رہی ہے‘
ایران کی اقتصادی مشکلات اس وقت سفارت کاری کی شدید متقاضی ہیں۔ 24 اگست کو ایرانی ریال اوپن مارکیٹ میں 2 ملین ریال فی ڈالر سے بھی نیچے چلا گیا، جو ایک نئی تاریخی کم ترین سطح تھی۔ ایرانی معیشت پہلے ہی جنگ، پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ یہ شدید اقتصادی دباؤ ایران کو مذاکرات کے ذریعے پابندیوں میں نرمی حاصل کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔
’پاکستان آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے‘
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے دورہ تہران کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز تھا جو ایران، امریکا تنازعے کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ پاکستانی اور ایرانی حکام کے درمیان حالیہ بات چیت میں ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر خصوصی بات چیت کی گئی۔
یہاں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، اگر اسلام آباد ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے میں قابل قبول سیکیورٹی اور سیاسی ضمانتوں کی طرف لے آتا ہے، اور دوسری طرف واشنگٹن کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ ایران سے براہ راست مذاکرات کسی رعایت کے بجائے قابلِ تصدیق سیکیورٹی انتظام کا آغاز ہوں گے، تو مذاکرات کے لیے ابتدائی فریم ورک بن سکتا ہے۔
کیا عاصم منیر ایک مرتبہ پھر ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں؟
موجودہ صورتحال کی بنیاد پر امکان موجود ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں، لیکن فی الوقت اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ البتہ حالیہ سفارتی سرگرمی نے مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک اہم دروازہ ضرور کھول دیا ہے۔
اگر دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مدنظر رکھا جائے تو مرحلہ وار اقدامات کچھ اس طرح سے ممکن ہوں گے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے قابل تصدیق ضمانتیں فراہم ہو جائیں، امریکا کی جانب سے ایران کو مرحلہ وار اقتصادی رعایتیں دی جائیں، فریقین جنگی کارروائیوں میں کمی کریں اور ابتدائی طور پر ثالثوں کے ذریعے اور بعد میں براہ راست مذاکرات کریں۔
سفارتی ماہرین کی رائے
سابق پاکستانی سفیر آصف درانی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ختم شدہ عمل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ مستقبل کے مذاکرات کے لیے بنیادی دستاویز بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں اس دستاویز کو دوبارہ فعال کرنے پر ایرانی قیادت کو آمادہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہی اقدام ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کا پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ قریب، امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھانے پر تیار‘
ایرانی نژاد امریکی پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ولی نصر کہتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کی ایک اہم طاقت یہ ہے کہ وہ ایران کے سیکیورٹی اور فوجی حلقوں سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سفارت کاری روایتی وزارتِ خارجہ کی سفارت کاری سے مختلف ہے اور وہ ایران کے سیاسی اور سیکیورٹی دونوں مراکز تک بیک وقت رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔










