دنیا کی پہلی کوانٹم بیٹری کا ابتدائی نمونہ تیار، جتنی بڑی ہو اتنی تیزی سے چارج ہونے کا دعویٰ

منگل 25 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی کام کرنے والی کوانٹم بیٹری کا پروٹوٹائپ (ابتدائی نمونہ) تیار کر لیا ہے جو روایتی بیٹریوں کے برعکس ایک حیران کن خصوصیت رکھتی ہے کہ اس کا حجم بڑھنے کے ساتھ اس کی چارج ہونے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کوانٹم سائنس کے ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم مستقبل میں کوانٹم بیٹریاں کوانٹم کمپیوٹرز جیسے جدید آلات کو توانائی فراہم کرنے کے علاوہ ممکنہ طور پر عام الیکٹرانک آلات کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ کوانٹم بیٹری مستقبل کی ایسی توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجی ہے جو کوانٹم دنیا کے غیر معمولی قوانین سے فائدہ اٹھا کر بیٹری کی چارجنگ کو روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

آسٹریلیا کی قومی سائنس ایجنسی سی ایس آئی آر او سے وابستہ کوانٹم سائنس کے محقق جیمز کواچ کا کہنا ہے کہ کوانٹم میکینکس یعنی ایٹمی اور ذیلی ایٹمی سطح پر مادے کے رویے کے قوانین، بعض معاملات میں ہماری عام توقعات کو بالکل الٹ دیتے ہیں۔

عام طور پر بیٹری جتنی بڑی ہو اسے مکمل چارج ہونے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیپ ٹاپ کو چارج ہونے میں کئی گھنٹے اور برقی گاڑی کو عموماً کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ لیکن کوانٹم بیٹری کے معاملے میں صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔

بیٹری جتنی بڑی چارجنگ اتنی تیز

کوانٹم بیٹریاں روایتی بیٹریوں کی طرح بنیادی طور پر کیمیائی تعاملات کے ذریعے کام نہیں کرتیں بلکہ کوانٹم اثرات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

اٹلی کی یونیورسٹی آف جینوا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاریو فیرارو کے مطابق کوانٹم بیٹری کا بنیادی مقصد بڑی مقدار میں توانائی ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ توانائی کو زیادہ تیزی اور زیادہ بہتر کنٹرول کے ساتھ فراہم کرنا ہے۔

سنہ2015  میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ کوانٹم الجھاؤ یا کوانٹم اینٹینگلمنٹ کی مدد سے ایسی بیٹریاں روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں چارج اور ڈسچارج ہوسکتی ہیں۔

دنیا کی پہلی کام کرنے والی پروٹوٹائپ

جیمز کواچ اور ان کی ٹیم نے مارچ 2026 میں ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے دنیا کی پہلی کام کرنے والی کوانٹم بیٹری کا پروٹوٹائپ پیش کیا۔

اس تجربے میں دو انتہائی چھوٹے آئینوں کے درمیان ایک ایسی جگہ بنائی گئی جسے آپٹیکل مائیکرو کیویٹی کہا جاتا ہے۔ دونوں آئینے صرف تقریباً 100 نینو میٹر کے فاصلے پر رکھے گئے جو انسانی بال کی موٹائی سے تقریباً ایک ہزار گنا کم ہے۔

مزید پڑھیے: ای سویپ بیٹری سسٹم کیا ہے؟

ان آئینوں کے درمیان نامیاتی رنگ کے مالیکیولز رکھے گئے اور پھر ان پر لیزر ڈالا گیا۔

اس عمل کے نتیجے میں روشنی اور مالیکیولز نے مل کر ایسی حالت اختیار کی جس سے نظام کی توانائی جذب اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھ گئی۔ اس مظہر کو سپر ابزورپشن کہا جاتا ہے۔

مالیکیولز مل کر توانائی جذب کرتے ہیں

روایتی طبیعیات میں مالیکیولز عموماً ایک دوسرے سے الگ رہ کر توانائی جذب کرتے ہیں، لیکن کوانٹم اثرات کی وجہ سے اس پروٹوٹائپ میں موجود مالیکیولز اجتماعی طور پر کام کرتے ہیں۔

جیمز کواچ کے مطابق وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر توانائی جذب کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مالیکیولز کی تعداد بڑھنے کے ساتھ توانائی جذب کرنے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بیٹری جتنی بڑی ہوگی وہ اتنی ہی تیزی سے چارج ہوسکتی ہے۔

کواچ کی ٹیم کے پروٹوٹائپ نے توانائی کو فیمٹو سیکنڈز یعنی ایک سیکنڈ کے ایک کوآڈریلین ویں حصے میں جذب کیا جبکہ یہ توانائی تقریباً نینو سیکنڈز تک برقرار رہی۔

اس مظاہرے کا بنیادی حصہ سنہ 2022 میں کیا گیا تھا تاہم مارچ 2026 میں سائنسدانوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پروٹوٹائپ سے برقی رو حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔

عام درجہ حرارت پر کام کرنا اہم پیشرفت

کوانٹم بیٹری تیار کرنے کے لیے یہ واحد طریقہ نہیں۔ ایک اور طریقے میں سپر کنڈکٹیو مواد استعمال کیا جاتا ہے جو پہلے ہی کوانٹم کمپیوٹنگ میں استعمال ہورہا ہے۔

تاہم کواچ کے طریقے کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ عام کمرے کے درجہ حرارت پر کام کرسکتا ہے۔

اس کے برعکس سپر کنڈکٹیو ڈیزائن کے لیے انتہائی کم درجہ حرارت درکار ہوتا ہے جو منفی 150 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوسکتا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹر کے لیے ایسی صورتحال قابل قبول ہوسکتی ہے لیکن موبائل فون کو توانائی دینے کے لیے عملی نہیں۔

کوانٹم طبیعیات کے ماہر مورو پاترنوسٹرو کے مطابق اگر مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ کوانٹم چارجنگ کا فائدہ حقیقی طبیعیاتی مظہر ہے تو آپٹیکل مائیکرو کیویٹی کا طریقہ مضبوط امیدوار ہے۔

ابھی موبائل فون چلانا ممکن نہیں

اس حیران کن ٹیکنالوجی کے باوجود کوانٹم بیٹری ابھی عام استعمال کے لیے تیار نہیں۔

موجودہ پروٹوٹائپ توانائی کی انتہائی معمولی مقدار صرف چند نینو سیکنڈز کے لیے ذخیرہ کرسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں موبائل فون، لیپ ٹاپ یا برقی گاڑی کو چلانے کے لیے کہیں زیادہ توانائی کو زیادہ دیر تک ذخیرہ کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کے درمیان لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ کے لیے اہم معاہدہ

سائنسدانوں کو کوانٹم بیٹری کو بیرونی ماحول سے بھی بڑی احتیاط سے محفوظ رکھنا پڑتا ہے کیونکہ ماحول کے ساتھ تعامل سے کوانٹم اثرات ختم ہوسکتے ہیں اور توانائی ضائع ہونے لگتی ہے۔

کواچ کے مطابق ان کی ٹیم نے ایک نیا ڈیزائن تیار کیا ہے جس میں کوانٹم اور روایتی اجزا کو یکجا کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کوانٹم اجزا انتہائی تیزی سے چارجنگ ممکن بنائیں جبکہ روایتی حصے توانائی کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھیں۔

ان کی ٹیم کئی انتہائی چھوٹی کوانٹم بیٹریوں کو ایک ساتھ جوڑنے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ مجموعی طور پر زیادہ توانائی ذخیرہ کی جاسکے۔

کوانٹم کمپیوٹرز کو پہلے فائدہ مل سکتا ہے

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کوانٹم بیٹریاں عملی طور پر کامیاب ہوئیں تو ان کا پہلا بڑا استعمال کوانٹم کمپیوٹنگ میں ہوسکتا ہے۔

کوانٹم کمپیوٹرز مستقبل میں بعض پیچیدہ کام موجودہ طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ان کی توانائی کی ضروریات اور پیچیدگیاں بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔

کواچ کا کہنا ہے کہ ان کی لیبارٹری میں اگلے چند برسوں کے دوران کوانٹم بیٹری کے ذریعے کوانٹم آلات کو توانائی فراہم کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے کوانٹم کمپیوٹرز کی توانائی کی کھپت کم، رفتار بہتر اور غلطیوں کی شرح کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

کیا برقی گاڑیاں بھی بغیر رکے چارج ہوسکیں گی؟

کواچ کا خیال ہے کہ مستقبل میں کوانٹم بیٹریاں عام آلات کے لیے بھی قابل استعمال ہوسکتی ہیں اگرچہ وہ اس بارے میں زیادہ محتاط ہیں۔

ان کے مطابق چونکہ یہ بیٹری لیزر کے ذریعے چارج ہوتی ہے، اس لیے ایک دلچسپ امکان یہ بھی ہے کہ مستقبل میں برقی گاڑیوں کو سفر کے دوران ہی توانائی فراہم کی جاسکے، جس سے ڈرائیوروں کو چارجنگ اسٹیشن پر رکنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

تاہم تمام ماہرین اس امکان سے متفق نہیں۔

ڈاریو فیرارو کے مطابق کوانٹم بیٹریوں کا عام موبائل فونز یا برقی گاڑیوں میں روایتی بیٹریوں کی جگہ لینا فی الحال بہت بعید نظر آتا ہے۔ ان کے خیال میں ان کا قدرتی میدان کوانٹم پیمانے کی ٹیکنالوجی ہی ہوگا۔

مورو پاترنوسٹرو کے مطابق اس وقت سب سے بڑا حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ کوانٹم چارجنگ کی غیر معمولی رفتار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ذخیرہ شدہ توانائی کو قابل استعمال اور قابو میں رہنے والی شکل میں واپس کیسے حاصل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: بغیر سولر کے بجلی کا بل کم کرنے والی بیٹریاں، ایک نئی ٹیکنالوجی

ان کے مطابق جو ٹیم یہ مسئلہ حل کرنے میں کامیاب ہوگئی وہی کوانٹم بیٹری کے میدان میں حقیقی بڑی پیشرفت کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp