وفاقی وزیر برائے قومی صحت سروسز سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز اسپتال) میں آتشزدگی کے باعث متاثرہ والدین کے غم اور دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ افسوسناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ، وزیراعظم کا شدید برہمی کا اظہار، وفاقی سیکریٹری صحت معطل
انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل اور ہیلتھ سیکریٹری اس وقت پمز اسپتال میں موجود ہیں اور امدادی و انتظامی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آگ صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد لگی۔
سانحہ پمز اسپتال: 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، 19 افراد کو بحفاظت نکالا گیا، صبح 6:54 پر آگ کی اطلاع ملی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں 6 منٹ میں پہنچیں، ایمرجنسی راستے باہر سے بند تھے، آگ بجھانے کے انتظامات ناقص تھے، سیکیورٹی عملے نے کام میں رکاوٹ ڈالی، سی ڈی اے کی رپورٹ۔۔!! pic.twitter.com/ix52iTXewt
— Khurram Iqbal (@khurram143) August 26, 2026
‘کمپریسر پھٹنے کے فوراً بعد اچانک بجلی کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا اور آگ تیزی سے پھیل گئی۔’
وزیر صحت کے مطابق واقعے کے وقت انتہائی نگہداشت یونٹ یعنی آئی سی یو میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ موجود تھا، جنہوں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی۔
‘۔۔۔تاہم آگ نے اتنی تیزی سے شدت اختیار کی کہ اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔’
مزید پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ، سویٹ ہوم متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، زمرد خان کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے وقت اسپتال میں موجود آگ بجھانے کے تمام آلات مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال تھے۔
‘تاہم وارڈ میں آکسیجن کی بڑی مقدار موجود ہونے کے باعث آگ نے انتہائی تیزی سے پھیلاؤ اختیار کیا۔’
حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔














