‎پمز اسپتال سانحہ، 3 روز قبل پیدا ہونیوالی جڑواں بچیاں بھی لقمہ اجل بن گئیں

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

‎اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بدھ کی صبح ایک المناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچے کو بچا لیا گیا۔

واضح رہے کہ آگ پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں صبح تقریباً پونے سات بجے لگی۔ اسپتال ترجمان کے مطابق اس وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے۔

ریسکیو کیے گئے بچے کو طبی نگہداشت کے لیے منتقل کردیا گیا، جبکہ 14 بچوں کی جان نہ بچائی جا سکی۔

‎آگ کی اطلاع کیسے ملی؟

‎کیپیٹل ایمرجنسی سروس اور سی ڈی اے فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فائر ایمرجنسی کی کال صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے تقریباً 7 منٹ بعد فائر اور ریسکیو ٹیمیں پمز پہنچ گئیں۔

یاد رہے کہ ریسکیو آپریشن میں 6 فائر بریگیڈ گاڑیاں اور 4 ایمبولینسز شامل تھیں, فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے بعد متاثرہ حصے میں کولنگ کا عمل بھی شروع کیا، جبکہ بچوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ منتقل کیا گیا۔

‎ریسکیو کارروائی کے دوران عمارت کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر بھی اندر تک رسائی حاصل کی گئی اور فائر فائٹرز نے سیڑھیوں کے ذریعے متاثرہ حصے تک پہنچنے کی کوشش کی۔

‎آگ کیسے لگی؟

‎پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل کے مطابق ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

 تاہم وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ آگ ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد لگی۔

دوسری جانب وزیرِ صحت کے مطابق وارڈ میں زیرِ علاج بعض بچے انکیوبیٹرز میں تھے جبکہ کچھ کو آکسیجن دی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آکسیجن کی موجودگی نے آگ کے پھیلاؤ کو مزید سنگین بنا دیا۔ تاہم ان دعوؤں کی حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔

‎متاثرہ وارڈ میں مرمت کا کام بھی جاری تھا

اس واقعے کے بعد ایک اہم سوال یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کیا متاثرہ وارڈ میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات موجود تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جس حصے میں آگ لگی وہ اسپتال کی تزئین و مرمت کے مرحلے میں تھا۔

جس کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا کہ نومولود بچوں کا وارڈ ایسی عمارت میں کیوں قائم تھا جہاں مرمت کا کام جاری تھا۔

‎والدین کے لیے قیامت خیز لمحے

واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کے والدین اور رشتہ دار پمز کے باہر جمع ہوگئے۔ بعض والدین نے اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ہلاک ہونیوالی 2 جڑواں بچیوں کے والد بہادر خان نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 3 دن قبل ان کی بچیوں کی پیدائش ہوئی تھی لیکن آج صبح 7 بجے انہیں آتشزدگی کی اطلاع ملی۔

جب وہ یہاں پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی دونوں بچیاں اللہ کو پیاری ہوچکی ہیں۔ جن کی نمازہ جنازہ آج دوپہر ظہر کے وقت ادا کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پمز اسپتال میں جان لیوا آگ کیسے لگی؟ سی ڈی اے رپورٹ سامنے آگئی

ان کا مزید کہنا تھا کہ اہلیہ کی طبعیت زیادہ خراب ہونے کے باعث انہوں نے اب تک اس حادثے کے بارے میں انہیں کچھ بھی نہیں بتایا ہے۔

جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے تقریبا گھنٹے کے بعد فائربریگیڈ کا عملہ پمز اسپتال پہنچا اور یہاں کوئی ایمرجنسی عملہ بھی اس طرح سے فعال نظر نہیں آیا۔

‎انکوائری کمیٹی قائم

واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے کثیر ادارہ جاتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کمیٹی یہ جائزہ لے گی کہ آگ کیسے لگی، کس طرح پھیلی، اسپتال میں فائر سیفٹی کے کیا انتظامات موجود تھے اور ہنگامی صورتحال میں ریسکیو کارروائی کس حد تک مؤثر رہی۔

کمیٹی کو 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

‎وزیراعظم کا ایکشن، وفاقی ہیلتھ سیکریٹری معطل

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔

‎بعد ازاں وزیراعظم کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں متعلقہ اداروں کے حکام سے واقعے پر جواب طلب کیا گیا اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بھی اسلام آباد پہنچ کر تحقیقات کی نگرانی کرنے کا اعلان کیا۔

ان کے مطابق حکومت کی فوری ترجیح متاثرہ خاندانوں کی مدد اور جاں بحق بچوں کی میتیں ان کے والدین کے حوالے کرنا ہے۔

‎صدرِ مملکت کا بھی اظہارِ افسوس

‎صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نومولود بچوں کی ہلاکت کو ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

انہوں نے ذمہ دار افراد کے تعین اور قانون کے مطابق کارروائی پر زور دیا، جبکہ اسپتالوں خصوصاً نومولود بچوں اور دیگر حساس مریضوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی اور ہنگامی انخلا کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

‎پمز فائر نے ایک بڑا سوال پھر کھڑا کردیا

پمز اسپتال میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک اسپتال میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، عمارتوں کی حالت، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی بڑے سوالات اٹھاتا ہے۔

‎خاص طور پر نومولود بچوں کے وارڈ میں جہاں کئی بچے خود چلنے پھرنے یا کسی خطرے کی صورت میں باہر نکلنے کے قابل نہیں ہوتے، وہاں آگ لگنے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے خصوصی انتظامات انتہائی اہم ہوتے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ تحقیقات میں آگ کی وجہ کیا سامنے آتی ہے، آیا وارڈ میں مطلوبہ فائر سیفٹی انتظامات موجود تھے، اور اگر کوئی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

‎حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے پمز اور ملک کے دیگر اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے موجودہ نظام پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سانحہ پمز کی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، مریم نواز کا غمزدہ والدین سے اظہار رنج و غم

طلال چوہدری کا پمز اسپتال کا دورہ: واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیر مملکت داخلہ

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس

اسلم غوری سیکریٹری صحت کے عہدے سے فارغ، محمد محمود کو اضافی چارج مل گیا

پمز اسپتال میں آتشزدگی کے باعث 14 نومولود دم گھٹنے سے جاں بحق، والدین کا غفلت کا الزام

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار