امریکی وزارتِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے چین کے ایک بڑے ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنا دیا ہے، جس نے امریکی وزارتِ انصاف، ناسا، فیڈرل ریزرو، امریکی سینیٹ اور دیگر اہم اور حساس اداروں کے نیٹ ورکس میں داخل ہونے اور رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی تھیں۔
امریکی حکام کے مطابق ‘کیو اسکین’ اور ‘کیو ٹی راؤٹرز’ نامی 2 ہیکنگ پلیٹ فارمز کے ڈومینز کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کو چین کی نانجنگ سن جیووے نیٹ ورک ٹیکنالوجی کمپنی چلا رہی تھی، جس کے گاہکوں میں چین کا شہری انٹیلیجنس ادارہ اور فوج شامل ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق یہ ہیکرز 2018 سے امریکی انفراسٹرکچر، محکمۂ توانائی، ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز اور امریکا و جنوبی کوریا کی چند کمپنیوں کے ڈیجیٹل نظام کو نشانہ بنا رہے تھے۔
🇨🇳 CHINESE STATE-SPONSORED HACKERS BREACHED THE FED, NASA AND DOJ
A Chinese state-sponsored hacking group infiltrated networks belonging to the Federal Reserve, US Senate, DOJ, NASA and other federal agencies, according to newly unsealed court documents.
The group also targeted… pic.twitter.com/7aez5Acz0N
— Bitcoin News (@BitcoinNewsCom) August 26, 2026
دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین تمام قسم کے سائبر حملوں کی مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ سائبر سیکیورٹی کے موضوع کو چین کو بدنام کرنے اور اس کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:توانائی کے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال، چین امریکا پر بازی لے گیا
ایف بی آئی اور دیگر امریکی اداروں کی مشترکہ ایڈوائزری کے مطابق اس نیٹ ورک نے حالیہ سالوں میں دفاعی کنٹریکٹرز، مالیاتی اداروں اور یونیورسٹیوں سے ڈیٹا چوری کیا، تاہم ناسا اور سینیٹ کے نیٹ ورکس میں داخلے کی کچھ کوششیں ناکام بھی رہیں۔














