نیپال میں بدھ کے روز آنے والے اچانک تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 160 افراد جاں بحق جبکہ 500 غیر ملکی شہریوں سمیت ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا ہے کہ راسووا کے علاقے میں کئی قصبے چند ہی گھنٹوں میں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔
کھٹمنڈو میں منعقدہ این ڈی ٹی وی ورلڈ انوشکا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے شیشیر خانال نے بتایا کہ ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتا ہیں۔
A horrific scene of severe flooding at the Rasuwagadhi border point on the Nepal-Tibet border.
The strong currents wreaked havoc across the area, leaving 400 pilgrims and 105 Indian tourists also missing in the Nepal floods.#NepalFloods #Nepal #Rasuwa #FlashFlood #Floods pic.twitter.com/dwAX12Gj7l— Ravi Pandey🇮🇳 (@ravipandey2643) August 26, 2026
انہوں نے کہا کہ حکومت اب بھی قدرتی آفت سے ہونے والے نقصانات کی مکمل شدت کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
نیپالی وزیر خارجہ کے مطابق سیلاب سے کم از کم 300 بھارتی شہری بھی لاپتا ہیں، جن میں زیادہ تر مانسروور یاترا پر جانے والے یاتری شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقے سے مانسروور جانے والے راستے سے بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری گزرتے ہیں اور تقریباً 300 بھارتی شہریوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
مزید پڑھیں: بھارت اور نیپال میں مون سون کی تباہ کاریاں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں ہلاکتیں
انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر تقریباً 500 غیر ملکی شہری اس وقت حکام سے رابطے میں نہیں ہیں۔
نیپال کی حکومت لاپتا غیر ملکی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
شیشیر خانال نے کہا کہ نیپالی حکومت غیر ملکی شہریوں کی سلامتی اور بہبود کے لیے بھی اتنی ہی پرعزم ہے جتنی کہ اپنے شہریوں کے لیے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی، درجنوں افراد جاں بحق، ہزاروں متاثر
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ امدادی کارروائیوں اور فوری ریلیف پر مرکوز ہے اور دنیا بھر سے لوگ نیپال کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس مشکل گھڑی میں نیپال کا ساتھ دیا جائے اور ملک کی تعمیر نو میں مدد کے لیے سیاحت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت نیپال کی بحالی کی کوششوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔
ان کے مطابق ملک کے بیشتر سیاحتی مقامات سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے اور سیاحوں کے لیے کھلے ہیں، پوکھرا اور ماؤنٹ ایورسٹ کا خطہ محفوظ ہے اور وہاں سیاحوں کا استقبال جاری ہے۔
شیشیر خانال نے کہا کہ نیپال ماضی کی بڑی قدرتی آفات، خصوصاً 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی مضبوط ہو کر ابھرا تھا اور موجودہ سانحے کے بعد بھی ملک دوبارہ تعمیر ہوگا۔













