پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور پارٹی سرگرمیوں سے دور رہنے کے ایک عرصے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اعلان کردہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ایک ایسے وقت پارٹی میں دوبارہ متحرک ہوئے ہیں جب جیل میں قید پارٹی رہنما عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بیرسٹر سیف کی بھی کافی عرصے بعد عمران خان سے جیل میں ملاقات ہوئی ہے۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں سے دور تھے اور سیاسی طور پر بھی زیادہ سرگرم نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ زیادہ تر وقت اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے حلقے میں گزارتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں:گوجرانوالہ ییلو لائن ماس ٹرانزٹ کی تکمیل کے لیے مارچ 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر
ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ کی کرسی سے محرومی کے بعد ناراض تھے اور پارلیمانی کمیٹی سمیت دیگر اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کرتے تھے، جبکہ رواں ماہ کے آغاز میں سہیل آفریدی کی جانب سے پشاور میں ہونے والے جلسے میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔
علی امین کی اسلام آباد مارچ کی تیاریاں
علی امین گنڈاپور کافی عرصے سے خاموش تھے۔ حلقے میں عوامی مسائل کے حل کے علاوہ وہ کسی قسم کی سیاسی یا پارٹی سرگرمیوں اور اجلاسوں میں نظر نہیں آتے تھے۔ تاہم اب اچانک وہ کافی عرصے بعد دوبارہ فعال ہو گئے ہیں اور سہیل آفریدی کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کی تیاری شروع کر دی ہے۔
انہوں نے پارٹی یوتھ ونگ کے ساتھ خصوصی میٹنگ بھی کی، 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور ہدایات بھی دیں۔
ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ علی امین نے اپنے آبائی علاقے میں عوامی رابطہ مہم بھی شروع کر دی ہے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر پارٹی کارکنوں اور حلقے کے لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور عمران خان کے لیے احتجاج میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی ہدایت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور لانگ مارچ میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کریں گے اور اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے جلوس کی قیادت کریں گے۔
ان کے مطابق علی امین گنڈاپور پشاور سے ریلی میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے موٹروے کے ذریعے اسلام آباد روانہ ہوں گے اور ریلی کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے۔
کیا بیرسٹر سیف کی رابطہ کاری کا علی امین گنڈاپور کے اچانک سرگرم ہونے سے کوئی تعلق ہے؟
علی امین گنڈاپور ایک ایسے وقت میں پارٹی میں دوبارہ سرگرم ہوئے اور 27 ستمبر کے مارچ کی تیاری شروع کی جب ان کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے سابق مشیرِ اطلاعات بیرسٹر سیف کی کافی عرصے بعد جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور رابطہ کاری کا سلسلہ بھی بحال ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ، تیاریاں اچانک ماند کیوں پڑگئیں؟
ذرائع بتاتے ہیں کہ چند دن پہلے بیرسٹر سیف کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں عمران خان نے بیرسٹر سیف سے علی امین گنڈا پور کے حوالے سے بھی پوچھا ہے۔ کچھ ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ بیرسٹر سیف کے ذریعے علی امین گنڈا پور کا عمران خان سے رابطہ بحال ہو گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بیرسٹر سیف علی امین گنڈا پور کے دورِ حکومت میں کابینہ کے اہم رکن تھے اور ان کے مقتدر حلقوں اور عمران خان کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے تھے۔ علی امین گنڈاپور کے لیے مسائل کے حل اور رابطہ کاری میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔
علی امین کی حکومت کے خاتمے کے بعد بیرسٹر سیف کو دوبارہ کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا اور اس کے بعد عمران خان سے ان کی ملاقاتیں بھی نہیں ہو رہی تھیں۔
بیرسٹر سیف کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ علی امین گنڈا پور کے دورِ حکومت میں اسلام آباد مارچ کے دوران بھی بیرسٹر سیف نے علی امین گنڈا پور اور عمران خان کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا اور مارچ کو رکوانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی، تاہم بشریٰ بی بی کی ضد کے بعد وہ اس میں ناکام رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی علی امین گنڈا پور کے انتہائی قریب ہیں اور ان کی بھی عمران خان سے رابطے کی اطلاعات ہیں، تاہم وہ اس کی تردید کر چکے ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ بیرسٹر سیف کی عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی علی امین دوبارہ سرگرم ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے اب ان کی سرگرمیوں سے عمران خان آگاہ ہوں گے اور رابطہ بھی بحال ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق علی امین پارٹی قیادت سے ناراض ضرور ہیں، تاہم وہ عمران خان کی گڈ بُک میں رہنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قریبی ساتھی کے عمران خان سے رابطہ بحال ہونے کے بعد وہ سرگرم ہو گئے ہیں اور باقاعدہ کارنر میٹنگز کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔
ایک قریبی ساتھی نے کہا کہ ’بیرسٹر سیف کا علی امین سے تعلق اچھا ہے۔ وہ جب بھی ملاقات کریں گے تو علی امین گنڈاپور کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی آگاہ کریں گے۔‘
کامران علی نوجوان صحافی ہیں اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی میں بیرسٹر سیف کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، لیکن علی امین کے ساتھ ان کا تعلق گہرا ہے اور وہ علی امین کی کابینہ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کی 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال، پی ٹی آئی میں اختلافات نمایاں
انہوں نے بتایا کہ بیرسٹر سیف کے طاقتور حلقوں سے بھی اچھے روابط ہیں۔ ’پی ٹی آئی یا سہیل آفریدی کے سامنے بیرسٹر سیف کی کچھ خاص اہمیت نہیں، لیکن علی امین بخوبی جانتے ہیں کہ عمران خان سے مشکل وقت میں رابطہ کاری وہی کر سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر سیف کی ملاقات سے علی امین کو فائدہ ہو سکتا ہے اور وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے بھی ہیں۔ ’آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیرسٹر سیف علی امین کا رابطہ کار ہو سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور سہیل آفریدی کی قیادت میں کسی قسم کے جلسے یا احتجاج کے حق میں نہیں، البتہ اسلام آباد مارچ میں وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ انہیں خود کو پارٹی کے سامنے دکھانا ہوگا کہ ان کے ساتھ کارکن اب بھی موجود ہیں۔
تاہم صحافی عارف حیات اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں علی امین گنڈاپور کے بیرسٹر سیف کی ملاقات سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ علی امین کا فعال ہونا وقت کی ضرورت ہے۔’ علی امین ناراض ہیں، لیکن فرنٹ پر کھل کر اختلاف نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ پارٹی میں زندہ رہنے کے لیے اسلام آباد مارچ میں شرکت اور کارکنوں کو نکالنا ان کے لیے انتہائی اہم ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی بیرسٹر سیف اور عمران خان کی ملاقات پر خاموش ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے ملاقات سے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ مرکزی ترجمان سے رابطہ نہ ہو سکا۔












