میر رضا قتل کیس میں تحقیقاتی و انتظامی غفلت کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں منعقد ہوا، جہاں کیس کے قانونی پہلوؤں، پولیس کی کارکردگی اور شاہراہ فیصل نرسری اسٹاپ پر مظاہرین کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ایف آئی آر کا اندراج اور کمیشن میں اس کا ردعمل
سماعت کے دوران جبران ناصر نے کمیشن کی توجہ شاہراہ فیصل نرسری اسٹاپ پر پولیس کی جانب سے درج کی گئی تازہ ایف آئی آر کی طرف مبذول کروائی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ شب میر رضا کے اہل خانہ اور ان کی مدد کرنے والے افراد شاہراہ فیصل پر پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ان کے خلاف ہنگامہ آرائی اور راستے کی بندش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: شاہراہ فیصل بلاک کرنے پر 100 کے قریب مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج
ایف آئی آر میں تقریباً 100 مظاہرین کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں عدنان رضا، دانش رضا، دانش، علی، رضا حسن، طلحہ، احمد، عبداللہ اور سبطین سمیت 20 افراد بالنام اور 80 نامعلوم شامل ہیں۔
درج ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے ڈنڈے، پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور صدر سے ایئرپورٹ جانے والی سڑک بلاک کر کے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔
جبران ناصر نے موقف اختیار کیا کہ مقدمے میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ شاہراہِ فیصل پر جسٹس فار رضا کے نعرے کیوں لگائے گئے، نیز اہلخانہ کو ابھی تک گواہوں کے بیانات کی کاپیاں بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ اس پر سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال نے کہا کہ آپ کی تنقید بجا ہے اور ہم ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، اہم ہدایت نامہ جاری
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سڑک بلاک ہونے کے باعث یہ قانونی قدم اٹھایا گیا، تاہم ابھی کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
اجلاس کے آغاز پر جسٹس عمر سیال نے مقتول میر رضا کے اہل خانہ کو روسٹرم پر بلا کر تعزیت کی اور کہا کہ ایک بہیمانہ طریقے سے ان کا بچہ چھینا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن بند کمروں کے بجائے مکمل شفافیت کے ساتھ کام کرے گا اور کسی بھی خوف کے بغیر آزادانہ تحقیقات یقینی بنائے گا۔
جسٹس عمر سیال نے انکوائری اور انویسٹی گیشن کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن ٹی او آرز کے مطابق صرف پولیس کی غفلت اور تحقیقات کے نقائص کی نشاندہی کرے گا، کیس کی براہِ راست تفتیش کرنا کمیشن یا وزیر اعلیٰ کا کام نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: اہل خانہ نے سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کردیا
انہوں نے مزید کہا کہ اہلخانہ کی متوازی درخواست کا اس کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔ مقتول کے والد میر حسین نے کمیشن پر کامل اعتماد کا اظہار کیا، تاہم پولیس انویسٹی گیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔













