بلوچستان میں لاپتا ہونے والی بعض نوجوان خواتین کے خاندانوں کی جانب سے اپنی بیٹیوں سے لاتعلقی کے اعلانات نے دہشتگردی کے ایک ایسے انسانی پہلو کو اجاگر کیا ہے جس کا ذکر عموماً اس نوعیت کے واقعات میں کم ہی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرنگ بلوچ جس کی حمایت میں نکلیں وہی صہیب بلوچ دہشتگردوں کا ’ہیرو‘ نکلا
بل نگور سے تعلق رکھنے والی اور اس وقت تربت میں مقیم فاطمہ نے بتایا ہے کہ ان کی بڑی بیٹی سمیہ کو لاپتا ہوئے تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے تاہم بارہا تلاش اور معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کے باوجود خاندان کو ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی۔
فاطمہ نے عوامی طور پر کہا ہے کہ اگر سمیہ کسی تنظیم یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائی جاتی ہیں تو ان کا اور ان کے خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
خاندان کی جانب سے اس طرح کا واضح اعلان اس خوف کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا ان خاندانوں کو ہوتا ہے کہ کہیں ان کی لاپتا بیٹی کو کسی مسلح یا دہشتگرد تنظیم نے اپنے زیر اثر نہ لے لیا ہو اور اسے اپنے ہی معاشرے کے خلاف استعمال نہ کیا جا رہا ہو۔
یہ پہلا واقعہ نہیں جس میں کسی لاپتا خاتون کے اہلخانہ نے اس خدشے کے باعث اس سے لاتعلقی ظاہر کی ہو۔
لا ئبا نذر کے والد نے بھی اپنی بیٹی کے 8 جولائی 2026 کو لاپتا ہونے کے بعد عوامی طور پر کہا تھا کہ اگر وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائی جاتی ہیں تو خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح گوادر میں اقرا کے والد نے مئی اور جون 2026 میں بتایا تھا کہ وہ اپنی لاپتا بیٹی کو تلاش کر رہے ہیں تاہم انہیں اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں اور نہ ہی ان کا کسی مبینہ غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق ہے۔
ایک اور نمایاں معاملہ شہناز بلوچ کا ہے۔ مئی 2026 میں ان کی شناخت کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ایک کمانڈر کے طور پر کیے جانے کے بعد ان کی والدہ، نانا اور ماموں نے عوامی طور پر ان کی مبینہ دہشتگردانہ سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق وہ تقریباً 12 برس سے شہناز کے ساتھ رابطے میں نہیں تھے اور ان کی سرگرمیوں سے خاندان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
ان واقعات میں مشترک بات یہ ہے کہ خاندان پہلے اپنی بیٹی کے لاپتا ہونے کی اذیت سے گزرتے ہیں اور پھر اس خوف کا سامنا کرتے ہیں کہ کہیں وہ کسی دہشتگرد نیٹ ورک یا اس کے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بن گئی ہو۔
لاپتا ہونے والی خواتین اور دہشتگردی کا خطرہ
ستمبر 2024 میں عدیلہ بلوچ کے خاندان نے ان کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی۔ چند روز بعد انہیں مبینہ طور پر خودکش حملہ آور بننے کی تیاری کے دوران بازیاب کیا گیا۔
بعد میں عدیلہ نے کہا تھا کہ انہیں دہشتگردوں نے گمراہ کیا تھا۔
اس واقعے نے یہ خدشہ نمایاں کیا کہ ایک ایسی لڑکی جو ابتدا میں اپنے خاندان کے لیے صرف ایک لاپتا فرد تھی اسے مبینہ طور پر دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
اسی طرح دسمبر 2025 میں لائبہ، جنہیں فرزانہ کے نام سے بھی بیان کیا گیا، لاپتا ہوئیں اور مارچ 2026 میں مبینہ طور پر خودکش حملے کی تیاری کے شبہے میں ملیں۔
ان کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا کہ انہیں دہشتگردی کے لیے بھرتی اور تربیت دی گئی تھی۔
ایسے واقعات نوجوان خواتین کو دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے بھرتی کیے جانے اور مبینہ طور پر ان کے استحصال کے خطرے کو ظاہر کرتے ہیں۔
دہشتگردی کا اثر صرف ہدف تک محدود نہیں
دہشتگرد تنظیمیں خودکش حملوں یا دیگر پرتشدد کارروائیوں کو اپنے مقاصد اور بیانیے کے لیے پیش کر سکتی ہیں لیکن ان کارروائیوں کا بوجھ صرف حملے کا نشانہ بننے والوں تک محدود نہیں رہتا۔
جس خاندان کی بیٹی دہشتگردی سے وابستہ ہو جائے وہ خاندان غم، سماجی بدنامی، خوف اور ایسے سوالات کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہو سکتا ہے جن کے جواب شاید کبھی نہ ملیں۔
جب کوئی لاپتا خاتون بعد میں کسی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ پائی جائے تو اس کے خاندان کے سامنے کئی تکلیف دہ سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں: اسے گھر سے کون لے گیا؟ کس نے اسے متاثر کیا؟ اسے کس نے تربیت دی؟ اور آخر ایک بیٹی کو ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش کس نے کی؟
یہی وہ انسانی قیمت ہے جو دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈے میں عموماً نظر انداز ہو جاتی ہے۔
خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والی کوئی بھی دہشتگرد تنظیم بلوچ خواتین کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ دہشتگردی کا نقصان صرف ان افراد یا مقامات تک محدود نہیں جنہیں نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ان خاندانوں تک بھی پہنچتا ہے جن کی بیٹیاں ان سے دور ہو کر تشدد کے نیٹ ورک کا حصہ بننے کے خطرے سے دوچار ہو جاتی ہیں۔
ایک دہشتگرد تنظیم کے لیے یہ محض ایک نئی بھرتی ہو سکتی ہے لیکن ایک ماں کے لیے یہ اپنی بیٹی کو کھو دینے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں جہاں ضرورت پڑی فل فلیج آپریشن ہوگا، دہشتگردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، میر ضیاء اللہ لانگو
دہشتگردی کے پروپیگنڈے کے پیچھے چھپی یہ انسانی قیمت ہی اس المیے کا سب سے دردناک پہلو ہے۔














