پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجی کاری کے لیے موصول ہونے والی 12 درخواستوں میں سے 10 خواہشمند فریقین کو پری کوالیفائی کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی الیکٹرک نے کے ای کی خریداری کا ارادہ ترک کردیا
اس دوڑ سے کے الیکٹرک خود دستبردار ہو گئی ہے جبکہ ایک چینی کمپنی مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث باہر ہو گئی ہے۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے تصدیق کی کہ گزشتہ 2 سالوں کے آڈٹ شدہ مالیاتی اکاؤنٹس دستیاب نہ ہونے کے باعث کمپنی نے فیسکو کے لیے اپنی درخواست واپس لے لی ہے۔ تاہم الیکٹرک ایشیا پاک انویسٹمنٹس کے ساتھ مل کر کسی دوسری ڈسکو کے لیے بولی لگائے گی۔
News Alert
PC Board Prequalifies 10 Interested Parties for FESCO Privatisation
The Privatisation Commission (PC) Board, at its 258th meeting held today, approved the prequalification of Interested Parties (IPs) for the privatisation of FESCO. The meeting was chaired by Mr… pic.twitter.com/lAmIzaV6fk
— Ministry of Privatisation, Government of Pakistan (@PrivComPakistan) August 28, 2026
چین کی کمپنی ‘جیانگ ژی الیکٹرک پاور کنسٹرکشن’ نے بار بار یاد دہانی کے باوجود آخری تاریخ پر انگریزی کے بجائے چینی زبان میں درخواست جمع کروائی جس کے باعث اسے پری کوالیفائی نہیں کیا گیا۔
پری کوالیفائی کرنے والی 10 کمپنیاں
مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والے 10 گروپس اگلے مرحلے (ورچوئل ڈیٹا روم کے ذریعے تفصیلی جائزے) میں داخل ہو گئے ہیں.
ترکیہ سے 3 کمپنیاں
ایکٹور الیکٹرک، گینویرا انرجی (چیلک گروپ) اور چنگیز انرجی۔
پاکستان کے 7 بڑے گروپس
اینگرو انرجی، سیفائر فائبرز (حب پاور، لکی سیمنٹ و دیگر کا کنسورشیم)، شیرازی انویسٹمنٹس (ایٹلس گروپ)، میپل لیف سیمنٹ و کوہ نور ٹیکسٹائل، پاک گین لمیٹڈ کنسورشیم (نشاط ملز، پبلک الیکٹران و دیگر) اور آرٹسٹک ملنرز۔
مزید پڑھیے: نجکاری کمیشن کا بڑا فیصلہ، بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت کے لیے اظہار دلچسپی طلب
فیسکو کے علاوہ گوجرانوالہ (گیپکو) کے لیے 11 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ اسلام آباد (آئیسکو) کے لیے درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 7 ستمبر 2026 ہے۔
نیپرا کا صارف دوست اقدام
نیپرا نے 20 سال بعد ‘پر فارمنس اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2026’ جاری کر دیے ہیں۔ نجی کاری کے بعد اگر کوئی کمپنی بجلی کی فراہمی، میٹر کی تبدیلی یا وولٹیج کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی تو اس پر نہ صرف بھاری جرمانے عائد ہوں گے بلکہ پہلی بار صارفین کو ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔














