سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ میں داخلے کو تیز، آسان اور سہل بنانے کے لیے متحدہ ڈیجیٹل سرمایہ کار رجسٹریشن کا نظام متعارف کرا دیا۔
ایس ای سی پی کے مطابق نئے نظام کا مقصد بار بار تصدیق کے عمل کو ختم، دستاویزات کو آسان اور سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس کھولنے کے لیے واضح مدت مقرر کرنا ہے۔ اس اقدام سے بالخصوص پہلی مرتبہ سرمایہ کاری کرنے والوں اور ڈیجیٹل سرمایہ کاروں کو سہولت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایس ای سی پی کا نئی کمپنیوں کے آن لائن بینک اکاؤنٹس کھولنے کے لیے عسکری بینک اور نیا پے کے ساتھ معاہدہ
نئے نظام کے تحت ’سہل‘ یا ’سہولت‘ اکاؤنٹس ایک کاروباری دن جبکہ عام اکاؤنٹس 2 کاروباری دن میں کھولنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق درخواست گزاروں کو درخواست کی نگرانی کے لیے شناختی نمبر فراہم کیا جائے گا، جبکہ کسی درخواست میں کمی یا خامی کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر آگاہ کیا جائے گا۔ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں وجوہات تحریری طور پر فراہم کی جائیں گی۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ متحدہ نظام کے تحت سیکیورٹیز بروکرز، اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں، بیمہ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے سرمایہ کاروں کی رجسٹریشن کے تقاضوں کو یکساں بنایا گیا ہے، جس سے مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاروں کو زیادہ یکساں اور آسان تجربہ حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی کمپنیوں کے انخلا کے دعوے بے بنیاد، نئی رجسٹریشنز سے سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار، ایس ای سی پی
نئے نظام کی اہم خصوصیت بار بار صارف کی تصدیق کے عمل کا خاتمہ ہے۔ اگر کسی سرمایہ کار کی مطلوبہ تصدیق پہلے ہی کسی مجاز مالیاتی ادارے یا متعلقہ تیسرے فریق کے ذریعے مکمل ہوچکی ہو تو دوبارہ تصدیق کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ایس ای سی پی کے مطابق نئے نظام میں ڈیجیٹل رجسٹریشن اور خودکار طریقے سے درخواستوں کی تکمیل کی سہولت بھی شامل ہے، جبکہ سرمایہ کار شناختی نمبر کے فوری اجرا اور سی ڈی سی ذیلی اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت سے کاغذی کارروائی اور دستی عمل میں کمی آئے گی۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی نے کہا کہ ادارے کی توجہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سرمایہ کاروں کے لیے پورے عمل کو آسان، تیز اور قابل رسائی بنانے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ہوگئی
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر نوجوانوں کی شمولیت بڑھا کر پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ میں موجود وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانا اور زیادہ گہری اور جامع مارکیٹ تشکیل دینا مقصد ہے۔
ایس ای سی پی نے ملک میں سرمایہ مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔














