ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑے تیل معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے سے امریکا کے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہوجائیں گے، رسد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور امریکی شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمتیں طویل عرصے تک کم رہیں گی۔

ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکا کو ملک کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی نے کیسے لاکھوں ڈالرز کمائے؟

امریکی صدر کے مطابق یہ تاریخی معاہدہ امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی اضافی بوجھ ڈالے بغیر طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز اور نجی شعبے نے کردار ادا کیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے سے امریکا کے تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ ہوجائیں گے اور ملک میں تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں ’تمام امریکیوں کے لیے گیس کی قیمتیں طویل عرصے تک نمایاں طور پر کم‘ ہوجائیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے نتیجے میں مغربی نصف کرۂ ارض میں مستحکم تیل کے ذخائر اور کم لاگت والا تیل دستیاب ہوگا، جبکہ امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔

روبیو کے مطابق وینزویلا میں نجی شعبے کی جانب سے تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے ہزاروں بہتر معاوضے والی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ملک کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ معاہدے کے تحت نجی کمپنیوں کی شمولیت سے ملک میں تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق  تیل کے 17 اہم شعبوں کو ترقی دی جائے گی، جن میں مجموعی طور پر 65 ارب بیرل تیل کے ثابت شدہ امکانات موجود ہیں۔

روڈریگیز نے کہا کہ ان منصوبوں میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوگی، جو وینزویلا کی تیل کی صنعت کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ملکی معاشی ترقی، خطے کی توانائی سلامتی اور عالمی تیل منڈی میں زیادہ توازن پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:پینٹاگون نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف کارروائی میں کس اے آئی ماڈل کی مدد لی؟

تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات خصوصاً امریکا کو ’اکثریتی کنٹرول‘ کس طریقے سے حاصل ہوگا اور تیل کے ذخائر و پیداوار پر اس انتظام کے عملی اثرات کیا ہوں گے، فوری طور پر واضح نہیں کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے کی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp