تباہ کن سیلاب اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے بعد غیرملکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی مدد لینے سے انکار کرنے والی نیپالی حکومت نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے بین الاقوامی امداد قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
نیپال نے ابتدا میں کہا تھا کہ اسے غیرملکی ریسکیو ٹیموں کی ضرورت نہیں اور ملکی سیکیورٹی ادارے خود امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں، تاہم ان ممالک کے دباؤ کے بعد حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی جن کے شہری سیلاب کے بعد تاحال لاپتا ہیں۔
نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے جمعہ کو کہا تھا کہ کئی ممالک کی جانب سے مدد کی پیشکش فطری عمل ہے، تاہم اس وقت نیپال کو غیرملکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی ضرورت نہیں۔
In a reversal, Nepal agrees to foreign help for flood rescue
The government backtracked on its decision amid pressure from countries whose nationals remain missing. Officials say they would allow international experts to assist in tunnel rescues and body identification.…
— The Kathmandu Post (@kathmandupost) August 28, 2026
انہوں نے کہا تھا کہ مدد کی پیشکش فطری ہے، ہمارے سیکیورٹی ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔ فی الحال ہمیں ایسی مدد کی ضرورت نہیں۔
بعد ازاں نیپالی حکومت نے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے غیرملکی ماہرین کو مخصوص امدادی سرگرمیوں میں معاونت کی اجازت دینے پر اتفاق کیا۔ حکام کے مطابق بین الاقوامی ماہرین سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے اور ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی شناخت کے عمل میں مدد فراہم کرسکیں گے۔
نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے چینی سرحد کے قریب واقع ضلع راسووا سمیت کئی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ سیلابی ریلوں نے کئی قصبوں کو تباہ کردیا، متعدد عمارتیں بہہ گئیں جبکہ پن بجلی کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 500 تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیپال میں تباہ کن سیلابی ریلے سے 552 افراد ہلاک، 1,400 سے زیادہ لاپتا، پاکستان کا ہنگامی امداد بھیجنے کا اعلان
سیلاب کے نتیجے میں سینکڑوں غیرملکی شہری بھی لاپتا ہیں، جن میں جنوبی کوریا کے شہری بھی شامل ہیں۔ جنوبی کوریا نے نیپال میں ایک رسپانس ٹیم بھیجنے کے ساتھ مزید ایک ڈیزاسٹر ریلیف ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ سیول نے بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے نیپال کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد کا وعدہ بھی کیا ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے مطابق نیپال میں ایک پن بجلی گھر میں کام کرنے والے 9 جنوبی کوریائی شہری لاپتا ہیں جبکہ 10 دیگر وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارت، چین، امریکا، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک نے نیپالی حکومت سے اپنے سرچ اینڈ ریسکیو دستے بھیجنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔
🇳🇵 The house was already sitting in the river, then a boy climbed onto the roof and started waving his T-shirt at the sky.
That was the only signal he had… Then a Nepal Army helicopter dropped in close enough for a soldier to grab his hand and pull him off the roof.
Hundreds…
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 29, 2026
غیرملکی امدادی ٹیموں کو اجازت نہ دینے کے ابتدائی فیصلے پر نیپال کے سابق سفیر برائے اقوام متحدہ جنیوا، دنیش بھٹارائی نے کہا تھا کہ حکومت کی ہچکچاہٹ کی وجہ سیلاب سے شدید متاثرہ ضلع راسووا کی جغرافیائی حساسیت ہوسکتی ہے، کیونکہ یہ علاقہ چین کے تبت کے علاقے سے متصل ہے۔
بھٹارائی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ممکن ہے حکومت نے علاقے کی حساس جغرافیائی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے غیرملکی ٹیموں کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہو۔
تاہم نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیرملکی ٹیموں کو اجازت نہ دینے کے فیصلے کا چین سے متعلق کسی حساسیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق نیپال کے اپنے امدادی اور سکیورٹی دستے ریسکیو آپریشن سنبھال رہے تھے۔
اب حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد غیرملکی ماہرین مخصوص ریسکیو اور شناختی کارروائیوں میں معاونت کریں گے، جبکہ نیپال کی اپنی امدادی ٹیمیں بھی آپریشن جاری رکھیں گی۔ مختلف ممالک بھی اپنے لاپتا شہریوں کی تلاش اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔














