وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں 14 بچوں کی ہلاکت کے لرزہ خیز واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سے تمام حقائق واضح ہو جائیں گے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
ہفتے کے روز وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ کا دورہ کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا شدت سے انتظار کر رہی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
ISLAMABAD: Federal Health Minister Mustafa Kamal, Dr Tariq Fazal Chaudhry and Islamabad DC Irfan Nawaz Memon have reached PIMS. Mustafa Kamal has, for now, declined to speak to the media.
Disclaimer: This post is based on information available at the time of publication. Further… pic.twitter.com/m9LL6Wgipe
— Islamabad Tribune (@ICTTribune) August 29, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے، اس کے نتائج سے واقعے کے محرکات واضح ہو جائیں گے’۔ دورے کے دوران دونوں وزرا نے اسپتال کے انتظامات کا جائزہ لیا اور مریضوں کو دی جانے والی سہولیات و طبی نگہداشت پر انتظامیہ سے بریفنگ لی۔
نظامِ صحت سڑ چکا ہے’، استعفے کے مطالبے پر جواب
اس سے قبل جمعے کو سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے واضح کیا تھا کہ اس سانحے کو محض چند دن کی خبر نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے واقعے کی وسیع تر تحقیقات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شعبہ صحت میں موجود بڑی خرابیوں کا پردہ چاک ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان
نظامِ صحت کو ‘خستہ حال’ اور ‘بوسیدہ’ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمز کا یہ سانحہ مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے اصلاحات کی بنیاد بننا چاہیے۔ استعفے کے مطالبات پر ان کا کہنا تھا کہ ‘تحقیقات مکمل ہونے دیں، میں نے ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ایکشن لے لیا ہے’۔
پارلیمانی ایکشن اور متاثرین کے لیے مالی امداد
اس اندوہناک واقعے پر سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ قومی اسمبلی نے بھی غیر جانبدارانہ انکوائری اور غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا ہے۔
Mustafa Kamal arrives at PIMS Hospital, saying: “The report will come out, and everything will become clear. Ask the Prime Minister what happened to my resignation.” pic.twitter.com/laFOSFpSax
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) August 29, 2026
حکومت نے جاں بحق ہونے والے ہر بچے کے خاندان کے لیے 5 ملین روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے بھی پمز انتظامیہ سے ممکنہ غفلت اور حفاظتی خامیوں پر جواب طلب کر لیا ہے تاکہ کڑے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
پمز اسپتال میں خوفناک آتشزدگی
بدھ کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر میں آگ لگنے سے 14 نوزائیدہ بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ پمز انتظامیہ کے مطابق، صبح 06:38 پر نرسری کے اندر آگ بھڑک اٹھی اور انکیوبیٹرز کے آکسیجن پوائنٹس کی وجہ سے چند ہی سیکنڈز میں اس نے خوفناک آگ کی شکل اختیار کر لی۔
مزید پڑھیں:پمز سانحہ: عملے کے بیانات میں بڑا تضاد، سینیٹ قائمہ کمیٹی صحت کا انکشاف
ڈیوٹی پر موجود 2 ڈاکٹروں اور 2 نرسوں نے سیکیورٹی کو بلایا، جنہوں نے نرسری میں داخل ہونے کی دو بار کوشش کی لیکن دھماکے کے باعث چھت گر گئی۔
دوسری جانب عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ ایمرجنسی سروسز کے لیے انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا اور دروازے بند ہونے کی وجہ سے مجبوراََ کھڑکیاں توڑ کر وارڈ میں داخل ہونا پڑا، تاہم حکومت اور اسپتال انتظامیہ نے تاخیر اور ہنگامی راستے بند ہونے کے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔













