برادر ملک نیپال کی مدد: پاکستان آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا

پیر 31 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ برادر ملک نیپال کے لیے 80 ٹن وزنی امدادی سامان پر مشتمل پہلی کھیپ آج شام 4 بجے تک روانہ کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس امدادی سامان میں خیمے، ادویات، کمبل اور دیگر ضروری اشیائے ضرورت شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار برادر ملک نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے 80 ٹن وزنی انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کی پہلی کھیپ آج شام 4 بجے تک نیپال کے لیے روانہ کر دی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پہلی امدادی کھیپ میں سیلاب متاثرین کے لیے خیمے، ضروری ادویات، کمبل اور دیگر انتہائی اہم اور بنیادی ضرورت کی اشیاء شامل کی گئی ہیں تا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں تیز رفتاری لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے نیپال سیلابی ریلے میں 85 امریکی شہری لاپتا ؟، محکمہ خارجہ نے ہنگامی امداد کا اعلان کردیا

پاکستان کی جانب سے یہ اقدام نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بعد بحالی اور ریلیف کی کوششوں میں حصہ ڈالنے اور مشکل کی اس گھڑی میں نیپالی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔

نیپال، تبت تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 810 ہوگئیں، ہزاروں لاپتا

واضح رہے کہ نیپال اور تبت کی سرحدی پٹی میں سیلاب کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے، جبکہ نیپال میں 794 اور تبت میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ نیپال میں 2,500 سے زائد افراد لاپتا ہیں، جن میں سینکڑوں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

نیپال میں حکام نے سیلاب کے باعث ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں میں چین اور بھارت کے ماہرین بھی شامل ہیں، جو سرنگوں کے اندر موجود افراد سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

حکام کے مطابق تریشولی-3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے میں امدادی کارکنوں نے سرنگ میں داخل ہونے کے لیے ایک سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ نیپال میں لاپتا ہونے والے 2,500 سے زائد افراد میں سینکڑوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملک کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں کام کرتے تھے۔ لاپتا افراد میں مختلف ممالک کے غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

دوسری جانب چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں سرکاری طور پر 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 546 افراد لاپتا ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف غیرملکی شہری بتائے جاتے ہیں۔ شگاتسے میں امدادی ٹیموں کو اب تک کسی شخص کو زندہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی المیے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

200 سے زائد طلبہ و طالبات بھی لاپتہ

سیلاب سے نیپال کے 3 سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں کم از کم 19 اسکول بھی متاثر ہوئے ہیں۔ وزارتِ تعلیم کے مطابق 9 اسکول مکمل طور پر تباہ جبکہ 7 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں سے اساتذہ اور طلبہ کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تازہ جائزے کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتا جبکہ تقریباً 20 سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ راسووا اور نواکوٹ اضلاع کے متعدد اسکول، جہاں 2,425 طلبہ زیرتعلیم تھے، سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے دب گئے۔ ایک اسکول کی انتظامیہ نے بتایا کہ سیلاب اس کی ایک طالب علم کو لے جانے والی بس بھی بہا لے گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp