بلاول بھٹو زرداری نے اپنی شادی اور منگنی سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا نے میری بات پکی کروادی، منگنی اور شادی بھی کروادی، ایسا کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ کسی ’پرنسز گلوریا‘ کو جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی زندگی کے بارے میں کبھی کوئی فیصلہ ہوا تو اس کا اعلان ان کا خاندان ہی کرے گا، تب تک اصل مسائل پر توجہ دی جائے اور سوشل میڈیا کے تماشے کو نظر انداز کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی شادی کی افواہیں، آصف زرداری کے لیختن شٹائن جانے کا دعویٰ، پیپلز پارٹی کی تردید
بلاول بھٹو نے کہا کہ سوشل میڈیا کے یہ تماشے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے پمز اسپتال کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے اسپتال میں 14 بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایک تو سوشل میڈیا نے میری بات پکی کروادی، منگنی اور شادی بھی کروادی ہے
میں واضح کروں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی میں کسی پرنسز گلوریا کو جانتا ہوں
سوشل میڈیا پر یہ تماشے حقیقی ایشوز پر سے توجہ ہٹانے کے لئے ہوتے ہیں۔ pic.twitter.com/zI6OljDC3r— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) August 31, 2026
انہوں نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک وزیر پاکستان کا گورباچوف بننا چاہتے ہیں اور ملک کے 30 ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ خود ایک اسپتال نہیں سنبھال سکتے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب لاہور میں وزیر نے لاہور کے تاجروں سے صوبے بنانے اور چلانے کی بات کی تو سندھ اسمبلی نے اس پر مضبوط مؤقف اختیار کیا کہ ایسی باتیں نہ سڑک پر ہوسکتی ہیں اور نہ لاہور کے کاروباری فورم میں۔
یہ بھی پڑھیں: مانیکا خاندان کی ایک لڑکی بلاول بھٹو سے شادی کے لیے کالا جادو سیکھ رہی ہے، ماہر علم نجوم کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جس کی اسمبلی پاکستان میں سب سے پہلے شامل ہوئی تھی، اسی اسمبلی میں بات ہوگی اور فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا تو ان کے خاندان کی جانب سے اس کا اعلان کیا جائے گا، اس وقت تک اصل مسائل پر توجہ دی جائے۔













