چین، نیپال سرحد پر گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 4 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک میں سیلاب سے کم از کم 987 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں 16 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 1003 ہوگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں سیلاب: امدادی کارروائیاں جاری، تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر درکار
ریسکیو آپریشن 7ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ نیپال میں لاپتا افراد کی تعداد 3,916 اور چین میں 546 ہے، یوں مجموعی طور پر 4,462 افراد لاپتا ہیں۔
نیپال میں لاپتا افراد میں 30 سے زائد ممالک کے 583 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
Nepal PM demands global climate action after disaster: ‘This was not an ordinary flood’ https://t.co/htSZqO7dof pic.twitter.com/joeZM6J46s
— The Independent (@Independent) September 1, 2026
بھارتی شہری لاپتا غیر ملکیوں میں بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ نئی دہلی کے مطابق نیپال میں 275 بھارتی شہری اور بھارتی نژاد 128 افراد لاپتا ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 85 امریکی شہری بھی لاپتا ہیں، جبکہ یوکرین، ملائیشیا، آسٹریلیا اور برطانیہ کے شہری بھی متاثرین میں شامل ہیں۔
بھارتی ریاست اتر پردیش میں حکام نے نیپال سے آنے والے دریاؤں سے 17 لاشیں برآمد کی ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر سیلاب متاثرین قرار دیا جارہا ہے تاہم ان ہلاکتوں کو مجموعی تعداد میں شامل نہیں کیا گیا۔
موسمیاتی تبدیلی ذمہ دار قرار
نیپال کے وزیراعظم بالندر شاہ نے سیلاب کو ’عام سیلاب نہیں‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ہمالیائی خطے میں برف اور گلیشیئرز سے متعلق تباہی کا نتیجہ ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے سیلاب، برفانی تودے گرنے اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: نیپال: سیلابی ملبے تلے 3 روز سے دبی 6 سالہ بچی زندہ نکال لی گئی
ہمالیائی اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے کے گلیشیئر کروڑوں افراد کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں۔
وزیراعظم شاہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث نیپال جیسے ممالک کو درپیش خطرات کا مؤثر طور پر ازالہ کیا جائے۔
ریسکیو آپریشن جاری
ریسکیو ٹیمیں دور دراز پہاڑی علاقوں تک رسائی کے لیے عارضی پل تعمیر کر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق 11 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ تقریباً 600 افراد اب بھی تباہ شدہ پن بجلی گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’آم کے درخت نے بچا لیا‘، نیپال میں قیامت خیز سیلاب کے بیچ 24 سالہ مزدور کی معجزانہ زندگی
بھارت اور چین بھی امدادی سرگرمیوں میں نیپال کی مدد کر رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں تک رسائی کے لیے عارضی پل تعمیر کیے جارہے ہیں۔
نیپالی حکومت کے مطابق تباہی کے بعد ملک کو 42 ملین ڈالر سے زائد کی امداد موصول ہوچکی ہے۔














