زیلنسکی کی روسی فضائی حدود استعمال کرنے والی تمام ایئرلائنز کو دھمکی

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی فضائی حدود استعمال کرنے والی تمام ایئرلائنز کو خبردار کیا ہے کہ وہاں پرواز کرنے والے طیاروں کو یوکرینی ڈرونز سے خطرہ لاحق ہوگا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے زیلنسکی کے بیان کو ’ریاستی دہشتگردی کا اعلان ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کے بعد کیف کی جانب سے ماسکو کے ساتھ امن مذاکرات کی خواہش کے دعوے بے معنی ہوجاتے ہیں۔

زیلنسکی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ یوکرین روسی فضائی حدود کو ڈرونز کے ذریعے تقریباً مکمل طور پر غیر محفوظ بنا دے گا۔ ان کے بقول روسی فضائی حدود استعمال کرنے والی ہر ایئرلائن، انشورنس کمپنی اور روس کے اہم ہوائی اڈوں سے استفادہ کرنے والے افراد کو خبردار کیا جارہا ہے کہ روسی فضائی حدود مکمل طور پر غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کی فضاؤں میں محفوظ دن ختم ہوچکے ہیں، خصوصاً ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور دیگر اہم شہروں کے ہوائی اڈوں پر آنے والی پروازوں کو ان کے انتباہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے ’پینڈورا باکس‘ کھول دیا، روس حساس معاشی شعبوں کو نشانہ بنائے گا، پیوٹن کا یوکرین کو انتباہ

دوسری جانب بشکیک، کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے روسی فضائی حدود بند کرنے کی دھمکی کو ’ریاستی دہشتگردی کا اعلان‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیف کے ایسے اقدامات امن مذاکرات کی خواہش سے متعلق اس کے تمام دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ پیوٹن نے کہا کہ ’دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جاتے۔‘

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی روس میں شہری اہداف پر بڑھتے ہوئے یوکرینی حملوں کو کیف کی امن کی خواہش کے دعوے کا محض دکھاوا قرار دیا۔

یوکرین کی جانب سے روس کے اندر دور تک ڈرون اور میزائل حملوں میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ ہوا ہے، جن کے باعث بالخصوص ماسکو کے گردونواح میں شہری ہوائی اڈوں کا آپریشن بارہا متاثر ہوا۔ زیلنسکی اس سے قبل روس پر روزانہ ایک ہزار حملے کرنے کی تعداد بڑھانے کا عزم بھی ظاہر کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے جنگ کا رخ بدل رہا ہے؟ یوکرین نے روسی پیشقدمی اور نقصانات پر نئی رپورٹ جاری کر دی

روسی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے یوکرینی ڈرونز کے بڑے حملوں کو ناکام بنایا ہے۔ اگست کے وسط میں روس نے ایک ہی کارروائی کے دوران 822 یوکرینی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ 2 روز بعد ایک اور حملے میں ملک بھر میں رات کے دوران 791 یوکرینی فکسڈ ونگ ڈرونز تباہ کرنے کی اطلاع دی گئی۔

روس بھی یوکرین کے اندر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے کرتا رہا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ’دہشتگردانہ‘ کارروائیوں کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کا مقصد میدانِ جنگ میں یوکرین کو درپیش مشکلات سے عوام اور مغربی حمایتی ممالک کی توجہ ہٹانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp