امریکی خلائی ادارے ناسا نے جدید ترین خلائی دوربین ’نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ‘ کامیابی سے خلا میں روانہ کردی ہے، جسے کائنات کے مطالعے میں ایک ’’بڑی پیش رفت‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق رومن ٹیلی اسکوپ نے اتوار کی صبح فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے پرواز کی۔ لانچ کے تقریباً 30 منٹ بعد دوربین راکٹ سے الگ ہوگئی اور اب زمین سے تقریباً 10 لاکھ میل دور اپنے مقررہ مقام کی جانب سفر کر رہی ہے۔
James Webb found a COSMIC FINGERPRINT in space 👁️✨
WR 140 — two giant stars colliding winds every 8 years, spraying dust shells like tree rings. 17 concentric fingerprints stretching 70,000x distance Sun-Earth. Looks hand-painted by universe
WR 140 is a Wolf-Rayet + blue… pic.twitter.com/NkVsLvb7JX
— Stellarix (@Stellarixorine) September 2, 2026
ناسا کے مطابق رومن دوربین ہبل اور جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ وسیع منظر ایک ساتھ ریکارڈ کرسکے گی۔ اس کی مدد سے سائنس دان اربوں کہکشاؤں کے نقشے بنانے، بلیک ہولز کا مطالعہ کرنے، تاریک مادے اور تاریک توانائی کے راز سمجھنے اور نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں، یعنی ایکزوپلینٹس، کی تلاش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ناسا کا سوئفٹ دوربین کو بچانے کا مشن ناکام، اب کیا ہوگا؟
ناسا کی منتظم نکی فاکس نے کہا کہ رومن دوربین کائنات کو دیکھنے کے ہمارے انداز کو بدل دے گی۔ ان کے مطابق اس مشن کے ذریعے دسیوں ہزار، ممکنہ طور پر ایک لاکھ تک نئے ایکزوپلینٹس دریافت کیے جاسکتے ہیں، جس سے اس اہم سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد ملے گی کہ کیا کائنات میں ہم اکیلے ہیں؟
ماہرین کے مطابق رومن دوربین زمین سے چاند کے فاصلے سے تقریباً 4 گنا زیادہ دور کام کرے گی، تاکہ زمین اور چاند سے آنے والی انفراریڈ روشنی اس کے مشاہدات میں خلل نہ ڈال سکے۔
SpaceX just held a SUN on the ground for 60 seconds 🔥🚀
Starship 40 — V3 prototype — full-duration static fire July 2, 2026. 33 Raptors screaming, orange inferno, pad shaking 5km away. No launch, just pure power test — and it SURVIVED
V3 = 30% more thrust than V2 — 80 MN… pic.twitter.com/mNXeLXYlWK
— Stellarix (@Stellarixorine) September 2, 2026
دوربین کا نام ناسا کی پہلی خاتون چیف ماہرِ فلکیات نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے ہبل ٹیلی اسکوپ کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ناسا کے مطابق رومن کا بنیادی مشن پانچ سال پر محیط ہوگا، تاہم اسے 10 سال تک چلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ دوربین کائنات کے تقریباً 95 فیصد حصے سے متعلق سمجھے جانے والے تاریک مادے اور تاریک توانائی کے بارے میں ہماری سمجھ میں بھی نمایاں اضافہ کرے گی۔














