پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا اور انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کمی کا شکار ہوگیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان رات گئے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد خطے میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط ہوگئے اور بڑے پیمانے پر شیئرز فروخت کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
دوپہر 12 بج کر 45 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,074.15 پوائنٹس یعنی 0.61 فیصد کمی کے بعد 175,392.84 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا تھا۔
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان رہا۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -741.87 points (-0.42%) at midday trading. Index is at 175,725.12 and volume so far is 125.52 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/TflGfRGtrf— Investify Pakistan (@investifypk) September 2, 2026
حبکو پاور، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے نمایاں حصص بھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
گزشتہ روز منگل کو بھی امریکا، ایران تنازع کے حوالے سے نئی بے یقینی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے تھے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کے اہم شعبے منفی زون میں، انڈیکس میں 454 پوائنٹس کی کمی
بھاری فروخت کے نتیجے میں انڈیکس 508.69 پوائنٹس یعنی 0.29 فیصد کمی کے بعد 176,466.99 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی، امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی بانڈ مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ کے اثرات ایشیائی مارکیٹوں تک پہنچے۔

ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع تر انڈیکس میں 1.5 فیصد کمی ہوئی، جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جاپان کا نکی 225 بھی 2.6 فیصد نیچے آیا۔
ادھر امریکی مارکیٹس میں بھی مندی رہی، وال اسٹریٹ پر ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.7 فیصد جبکہ نیس ڈیک کمپوزٹ 1 فیصد گر گیا، حکومتی بانڈز کی شرح منافع میں اضافے نے ایکویٹیز پر دباؤ بڑھایا۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
امریکی انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں امریکی صنعتی سرگرمی میں کچھ کمی آئی، تاہم مینوفیکچرنگ شعبہ بدستور توسیعی سطح پر موجود رہا۔
مارکیٹ کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو آئندہ 2 ہفتوں میں ہونے والے اجلاس میں شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ یقینی نہیں۔













