جاپان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 19 ستمبر سے شروع ہونے والے ایشین گیمز میں رہائشی مسائل کے باوجود کرکٹرز کو دیگر ایتھلیٹس کے مقابلے میں ہوٹلز کی صورت میں بہتر سہولیات دی جائیں گی۔
منتظمین کے مطابق ریکارڈ 17000 کھلاڑیوں کی شرکت کے باعث دیگر کھیلوں کے ایتھلیٹس کو کروز شپس اور عارضی کنٹینرز میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔
جاپان کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ ناوکی ایلکس میاجی نے تصدیق کی ہے کہ ان گیمز میں حصہ لینے والی کرکٹ ٹیموں کو ہوٹلز میں ٹھہرایا جائے گا، جبکہ دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں کو انتہائی محدود سہولیات جیسے کروز شپ یا کنٹینر ہوٹلز پر گزارا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ پاکستان میں، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان
رواں ہفتے ایک سری لنکن عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ ایشیا کی ٹاپ ٹیموں نے ناگویا اور آئیچی کے دیگر علاقوں میں رہائش اور سہولیات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عارضی گراؤنڈ اور بھارتی ٹیم کی ناراضگی
جاپان میں کرکٹ ایک غیر معروف کھیل ہے، اس لیے میچز ناگویا شہر سے 40 منٹ کی مسافت پر واقع کوروگی اسپورٹس پارک کے ایک تبدیل شدہ بیس بال گراؤنڈ میں کھیلے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق وہاں ڈریسنگ رومز کی جگہ خیمے لگائے گئے ہیں اور واش رومز بھی گراؤنڈ سے کافی دور ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ ان انتظامات سے ناخوش ہے اور شریاس آئیر کی قیادت میں 15 رکنی ‘بی’ ٹیم بھیجنے پر غور کر رہا ہے جس میں 15 سالہ ابھرتے ہوئے اسٹار ویبھو سوریاونشی بھی شامل ہیں۔
پچ کا معیار اور منتظمین کا موقف
میاجی کا کہنا ہے کہ ایشین گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی اور ایشین کرکٹ کونسل کے درمیان رہائش کے معاملے پر طویل عرصے سے بات چیت جاری تھی۔
جاپانی منتظمین کے پاس تیاری کے لیے محض 17 ماہ کا قلیل وقت تھا اور انہیں سب کچھ صفر سے شروع کرنا پڑا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عارضی ہونے کے باوجود کھلاڑیوں کو ہر ممکن حد تک آرام دہ ماحول فراہم کیا جائے گا۔
سری لنکا کے 35000 گنجائش والے پالے کیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم کے کیوریٹر کی جانب سے تیار کی گئی پچ کے حوالے سے میاجی پرامید ہیں کہ یہ ایشین گیمز کی تاریخ میں اب تک کی بہترین کرکٹ پچ ثابت ہوگی۔
مزید پڑھیں:ایشین گیمز ہاکی ڈرا، پاکستان پول ’بی‘ میں شامل، ملائیشیا اور چین سمیت سخت حریفوں کا سامنا
واضح رہے کہ ایشین گیمز میں رواں برس ریکارڈ 17000 ایتھلیٹس شرکت کر رہے ہیں جو کہ 2024 کے پیرس اولمپکس کے 11000 ایتھلیٹس کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
گیمز کے لیے جاپان میں کوئی مخصوص ایتھلیٹس ولیج نہیں بنایا گیا، جس کی وجہ سے رہائشی سہولیات کا شدید بحران پیدا ہوا اور گنجائش ختم ہو گئی۔ منتظمین کی جانب سے رہائش کے متبادل انتظامات کے تحت لکڑی کے عارضی کنٹینرز، ہوٹلز اور کروز شپس کا استعمال کیا جا رہا ہے جس نے مختلف ممالک کے دستوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔














