سول عدالت کے فیصلے سے قبل فوجداری کارروائی نہیں ہو سکتی، آئینی عدالت

جمعرات 3 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی، کیونکہ دونوں عدالتوں سے متضاد فیصلوں کی صورت میں انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملکیتی تنازع یا متنازع دستاویزات کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو فوجداری عدالت کو سول عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں اور دیگر کے خلاف اساتذہ کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

کیس میں سابق ای ڈی او اور دیگر افسران کے خلاف بوگس دستاویزات کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کرنے کے الزام میں فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی، جبکہ جعلی اور متنازع دستاویزات کی قانونی حیثیت کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ التوا تھا۔

جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ فیصلے میں آئینی عدالت نے قرار دیا کہ متنازع دستاویزات یا سرٹیفکیٹس کی اصلیت اور قانونی حیثیت کا تعین سول عدالت کے اختیار میں ہے۔

عدالت کے مطابق متنازع سرٹیفکیٹس کی تصدیق اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ہونے سے قبل درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: ’ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں‘، آئینی عدالت نے جنسی زیادتی کی شکار خاتون کی درخواست خارج کر دی

فیصلے میں کہا گیا کہ سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع کی جا سکے گی۔

اگر سول اور فوجداری مقدمات ایک ہی معاملے سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو انصاف کے تقاضوں کے تحت فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش موجود ہے۔

تاہم عدالت نے واضح کیا کہ بدنیتی سے دائر کیے گئے سول مقدمے کو محض فوجداری کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: حارث اسٹیل مل ریفرنس ختم کرنے کیخلاف کیس، وفاقی آئینی عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کردیا

فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ متعلقہ حالات، مقدمے کی نوعیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایک ہی معاملے میں سول اور فوجداری عدالتوں کی جانب سے مختلف نتائج سامنے آنے سے انصاف کے نظام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اس لیے متنازع دستاویزات سے متعلق بنیادی سوال کا فیصلہ پہلے سول عدالت سے کرایا جانا ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp