وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ نظام مفلوج ہو چکا ہے تاہم یہ ہم حکمرانوں کی ہی ذمہ داری ہے کہ اسے ٹھیک بھی کریں، ملک میں انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں تاہم ضروری نہیں ان میں الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ ہوں۔
جمعرات کو نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے مقامی حکومتوں کے قیام، نئے انتظامی یونٹس اور سفارتی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر بھارت نے دوبارہ کوئی ‘مس ایڈونچر’ کرنے کی کوشش کی تو پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ‘دمادم مست قلندر’ ہوگا، کیونکہ پاکستان نے ماضی میں بھی بھارت کو ‘پھینٹی’ لگائی تھی جو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی بڑی فتح، بھارت کچھ عرصے سے ہزیمت ہی اٹھا رہا ہے، خواجہ آصف
انہوں نے پانی کو پاکستان کی ‘لائف لائن’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پانی کے تنازعات پر بے شمار جنگیں ہو چکی ہیں اور یورپ میں بھی طویل عرصے بعد پانی کے معاملے پر سیٹلمنٹ ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں میں سے کوئی بھی ‘سندھ طاس معاہدے’ کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
مفلوج نظام اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت
ملک موجودہ نظام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ نظام مفلوج ہو چکا ہے اور یہ ہم حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم ہی اسے ٹھیک بھی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت تمام صوبوں کو گراس روٹ لیول پر بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بالآخر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ وفاقی سطح پر ہی ہونا ہے، جبکہ ‘صوبوں’ کا لفظ گمراہ کن ہے اور اسے کسی اور مقصد کو روکنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ملک کے 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس بنایا جا سکتا ہے اور یہ بالکل ضروری نہیں کہ ان تمام 36 ڈویژنز میں الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ ہوں۔ اگر ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو یہ گراس روٹ لیول پر بھی نظر آنی چاہیے۔
سفارتی کامیابیاں اور عالمی تعلقات
وزیرِ دفاع نے پاکستان کی غیر ملکی حکمتِ عملی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دور میں سفارتی سطح پر پاکستان نے جو تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
مزید پڑھیں:بیوروکریٹس ہی اصل اور مستقل حکمران، کسی حکومت نے ان کا احتساب نہیں کیا، وزیر دفاع خواجہ آصف
انہوں نے مکہ معاہدے کو انتہائی بڑی کامیابی قرار دیا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاک چین دوستی کی 65 سالہ تاریخ پر کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا یہ آہنی دیوار سے بھی زیادہ مضبوط ہے، امریکا کے ساتھ بھی پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں اور آئندہ بھی اچھے رہنے چاہییں۔
پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پر تنقید
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات بہتر ہیں اس لیے وہ محتاط انداز اپنا رہے ہیں۔
تاہم سچ یہی ہے کہ گزشتہ 15 سالوں میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی سیاسی ساکھ کھوئی ہے اور اس کی موجودہ قیادت ماضی کی مقبولیت کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ 2 ، 3 سالوں سے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس میں ترمیم کی ضرورت ہے اور سوشل میڈیا پر جو غیر مناسب زبان استعمال کی جاتی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ برطانیہ میں بیٹھ کر بیان بازی کرنے کے بجائے پاکستان آئیں اور اپنے والد سے ملاقات کریں۔
واضح رہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری تو مل گئی لیکن مقامی حکومتوں کا نظام فعال نہ ہونے کی وجہ سے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔
علاوہ ازیں پاک بھارت تعلقات بالخصوص ‘سندھ طاس معاہدے’ کی معطلی کی بھارتی دھمکیوں کے بعد سرحد پار سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایسے میں پاکستان کی جانب سے ’مکہ معاہدے‘ کے ساتھ نئی دفاعی و معاشی صف بندی اور علاقائی استحکام کے اقدامات کو اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔














