پرائیویٹ اسپتال میں علاج جیل مینول کے خلاف، پمز یا پولی کلینک میں علاج کیوں نہیں ہو سکتا؟ وفاقی آئینی عدالت

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی طرز پر دیگر قیدیوں کو بھی نجی اسپتالوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت میں 3 قیدیوں کی جانب سے دائر اپیلوں پر چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ درخواست گزاروں نے بانی پی ٹی آئی کی طرز پر بہتر علاج کی غرض سے نجی اسپتالوں میں منتقلی کی استدعا کی ہے۔

جیل مینول اور مساوی سلوک پر عدالتی استفسار

سماعت کے دوران بینچ نے قیدیوں کے علاج اور جیل قوانین پر اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس عامر فاروق نے واضح کیا کہ جیل رول نمبر 197 کے تحت قیدی کے علاج کے تمام اخراجات سرکار برداشت کرتی ہے اور اس رول میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت کا حکم قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ آخر نجی اسپتال ہی کیوں؟ پمز (PIMS) یا پولی کلینک جیسے سرکاری اسپتالوں میں علاج کیوں نہیں ہو سکتا؟ پرائیویٹ اسپتال میں علاج فراہم کرنا جیل مینول کی خلاف ورزی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے عمران خان جیسی سہولیات نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا فیڈرل آئینی عدالت سے رجوع

جسٹس علی باقر نجفی نے تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں رویے پر زور دیتے ہوئے کہا ’تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ اگر جیل مینول پر عمل نہیں کرنا تو اس کا کیا فائدہ؟ آپ کے مطابق کسی کے ساتھ تفریق نہیں ہونی چاہیے اور ہر شخص کے لیے الگ طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا۔ یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے۔‘

وکلائے صفائی کے دلائل

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل کو 2 ماہ کے دوران 8 بار علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا اور اسپتال کی رپورٹس بھی نجی معالجین سے علاج کی حمایت کرتی ہیں۔ وکیل نے بانی پی ٹی آئی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے ذریعے آئینی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کی بات تھی تو آپ کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنی چاہیے تھی یا اسی مقدمے میں فریق بننا چاہیے تھا۔

عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

جب تک وفاق خود راستے نہیں کھولتا صوابی میں بیٹھیں گے، کنٹینرز اور کیلوں کو ہاتھ تک نہیں لگائیں گے، شاندانہ گلزار

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا